لکھنؤ، 9/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) یوپی کے ہاتھرس بھگدڑ کیس میں ایس آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ تمام ذمہ داروں کے نام اس رپورٹ میں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ رپورٹ 128 لوگوں سے بات چیت کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس پورے واقعہ میں سورج پال عرف ساکر وشو ہری عرف بھولے بابا کا کوئی ذکر تک نہیں ہے۔
خبروں کے مطابق اس رپورٹ میں ستسنگ منعقد کرنے والی کمیٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ افسران کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان میں ستسنگ کی اجازت دینے والے ہاتھرس کے ڈی ایم آشیش کمار، ایس پی نپون اگروال، ایس ڈی ایم اور سی او سکندرا راؤ اور 2 جولائی کو ستسنگ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کے بیانات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھگدڑ کے لیے اجازت سے زیادہ لوگ آئے، انتظامات کا فقدان اور موقع پر افسران کی جانب سے کوئی معائنہ نہیں کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ 2 جولائی کو یوپی کے ہاتھرس میں سورج پال عرف بھولے بابا کے ستسنگ میں بھگدڑ مچ گئی تھی جس میں 121 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس بھگدڑ میں کئی لوگ زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے مرکزی ملزم دیو پرکاش مدھوکر سمیت 6 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ تمام ملزمان ستسنگ آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن تھے۔