ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہائی کورٹ نے آشرم میں نابالغ بچوں کو یرغمال بنانے کے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا

ہائی کورٹ نے آشرم میں نابالغ بچوں کو یرغمال بنانے کے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا

Wed, 20 Dec 2017 23:42:00    S.O. News Service

نئی دہلی ،20؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ نے روہنی کے ایک آشرم میں نابالغ بچیوں اور عورتوں کو مبینہ طور پر یرغمال بنا کر رکھے جانے کے معاملے کی آج سی بی آئی جانچ کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ نے سی بی آئی ڈائریکٹر سے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم قائم کی جائے اور آشرم میں لڑکیو ں سے مبینہ عصمت دری اور خودکشی سے منسلک تمام معاملوں سے متعلق دستاویزات کو ضبط کیے جائیں۔ہائی کورٹ نے کل پولیس کو روہنی کے ’روحانی عالمی اسکول‘نامی آشرم کے احاطے کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔عدالت نے کہا تھا کہ یہ ’انتہائی خطرناک‘ہے کہ بھگوان کے متعلق تعلیم دینے کے نام پر بچیوں اور عورتوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔عدالت کی جانب سے مقرر کمیٹی نے بنچ کو بتایا کہ کل جب وہ تحقیقات کے لئے آشرم گئے تو آشرم کے کچھ ملازمین نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور تقریبا ایک گھنٹے تک انہیں یرغمال بنائے رکھا۔کمیٹی نے بنچ کو بتایا کہ آشرم میں 100سے زیادہ لڑکیوں کو یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے اور ان میں سے اکثر معمولی ہیں۔ عدالت نے آشرم کی عمارت کا معائنہ کرنے اور اس کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے کہ کیا وہاں کسی نابالغ لڑکے کو بھی یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔اس ٹیم نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ’روحانی عالمی اسکول‘میں بچیوں کو جانوروں کی طرح لوہے کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا تھا اور وہ خار دار دیوار سے گھری ہوئی تھیں۔عدالت کو کمیٹی نے بتایا کہ بچیوں کے غسل کے دوران بھی کوئی پرائیویسی حاصل نہیں تھی۔


Share: