ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گوالیار میں گوڈسے کا مندر بنائے جانے کو بی جے پی نے اظہار رائے کی آزادی بتادیا

گوالیار میں گوڈسے کا مندر بنائے جانے کو بی جے پی نے اظہار رائے کی آزادی بتادیا

Sun, 19 Nov 2017 10:04:02    S.O. News Service

بھوپال،18؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گوالیار میں ہندو مہاسبھا نے ناتھورام گوڈسے کا مندر بنوایا ہے۔اس کی کانگریس مخالفت کر رہی ہے لیکن بی جے پی کا کہناہے کہ یہ بھی اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔حالانکہ حکومت کی جانب سے جنرل اسمبلی کو وجہ بتاو نوٹس بھیجا گیا ہے۔گاندھی کے قاتل گوڈسے کامندربنانے کے خلاف کانگریس نے جمعہ کو پوری ریاست میں خاموشی اختیار کرکے مخالفت ظاہر کیا۔دارالحکومت بھوپال سمیت مدھیہ پردیش میں کئی جگہ مہاتما گاندھی کی مورتی کو دھویا گیا، پھول مالا پہنایاگیا۔مخالفت کے لئے کانگریس کو ان کی یاد آئی۔مخالفت گوالیار میں ہندوسبھا بھون میں لگائی گئی ناتھورام گوڈسے کی مورتی سے ہوئی ۔شہر کے دولتگج علاقے میں 80سالوں سے جنرل اسمبلی کا دفتر ہے،جہاں گوڈسے نے 1947میں سات دن گزارے تھے۔جنرل اسمبلی نے گوڈسے کے مندر کے لئے زمین اور اجازت مانگی تھی لیکن انتظامیہ نے انکار کر دیا۔مندر بننے کے بعد جنرل اسمبلی کو وجہ بتاو نوٹس جاری کر کے سوال بھی پوچھے گئے۔لیکن کانگریس کو لگتا ہے یہ صرف دکھاوا ہے۔کانگریس کے کارکن پوری ریاست میں باپو کی مورتی کے پاس خاموش بیٹھے رہے۔کانگریس نے کہا ہے کہ مورتی نہیں ہٹائی گئی تو مظاہرہ تیزہو گا۔کانگریس کے ترجمان روی سکسینہ نے کہا کہ حکومت گاندھی جی کی ستائش کرنے کی بات کرتی ہے۔لیکن مرینا میں ان کے مورتی جلائی گئی، ان کی توہین ہو رہی ہے اور وہ خاموش ہے۔اگر گوڈسے کی مورتی نہیں ہٹائی گئی تو کانگریس مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک پر اترے گی۔


Share: