بھٹکل 19/ستمبر (ایس او نیوز)حکومت کی طرف سے شہروں کی ترقی اورصفائی ستھرائی کے لئے کروڑوں روپے کا فنڈ جاری ہونے کے باوجود بلدی اداروں کی بدانتظامی اور بے پروائی سے کروڑوں روپے کا فنڈ مٹی میں مل جاتا ہے اور عوام کے لئے مسائل اور دشواریوں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔
ایسی ہی مثال بھٹکل شہر کی ہے جہاں کوڑا کرکٹ اور گندگی اس قدر بڑ ھ گئی ہے کہ لگتا ہے جیسے یہ شہر بہت جلدملیریا، ڈینگیو اور اس جیسے بہت سارے وبائی امراض کا گڑھ ہوجائے گا۔بھٹکل کے اکثر علاقوں میں مکینوں کا الزام ہے کہ اُن کے گھروں سے کچروں کو لے جانے کے لئے میونسپالٹی کا کوئی اہلکار نہیں آتا، البتہ ماہ ختم ہوتے ہی ماہانہ فیس وصول کرنے لوگ ضرور آتے ہیں، اسی طرح جب گھروں میں جمع شدہ کچروں کو بلدیہ ڈبوں میں پھینکنے کی باری آتی ہے تو دور دور تک ایسے ڈبے نظر نہیں آتے کہ کچروں کو اُن ڈبوں میں لے جاکر پھینکا جائے، مجبوراً عوام کچروں کو اُن علاقوں میں پھینک دیتے ہیں جہاں لوگوں کی آمدورفت کم ہوتی ہے۔
اسی طرح کی صورتحال بھٹکل شمس الدین سرکل سے ساگر روڈ پر ٹیمپو، لاری، رکشہ اسٹانڈ اور چھوٹے چھوٹے باکڑو ں کے پیچھے برساتی پانی کی نکاسی کے لئے بنے ہوئے نالے کی ہے۔یہاں سڑک کنارے واقع غیر قانونی باکڑوں سے چھوڑے گئے گندے پانی، پلاسٹک اور دیگر کوڑا کرکٹ کا اتنا ڈھیر اس میں جمع ہوگیا ہے کہ یہ نالہ خطرناک بیماریوں کی آماجگاہ بنتا دکھا ئی دے رہا ہے۔ جب روزانہ ہزاروں لوگوں کی آمد و رفت سے مصروف رہنے والی سڑکوں کا یہ حال ہے تو پھر شہر کے اندرونی اور کم ہلچل والے علاقوں کا حال کیا ہوگا اس کااندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔اس علاقے میں ٹیمپو اور آٹو رکشہ ڈرائیوروں کے علاوہ لگاتار مسافروں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔ اسکول اور کالج جانے والے سینکڑوں طلباء کا یہاں سے گزر ہوتا ہے۔ نجی اورسرکاری اسپتال جانے والے مریضوں کو بھی یہاں سے گزرنا پڑتا ہے۔اس طرح سماج کے ہر طبقے کو اس گندے نالے سے اٹھنے والی سڑاند کو برداشت کرنااور بیماریوں کا خطرہ اپنے ساتھ لے جانا پڑتا ہے۔
ٹیمپو اورآٹو رکشہ والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہاں سے گندگی ہٹانے اور صفائی کا انتظام کرنے کے بارے میں بلدیہ کو میمورنڈم بھی دیا ہوا ہے۔مگر اس پر کوئی مثبت کارروائی نہیں ہوئی ہے۔یہاں کے ایک دکاندار آنند نائک نے بتایا کہ" بھٹکل میونسپالٹی شہر کی صفائی ستھرائی کے معاملے میں بہت ہی لاپروائی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اور خاص کر کے نالوں کی صفائی پر دھیان ہی نہیں دیا جاتا۔نالے کے پانی سے اٹھنے والی بدبو نے ناک میں دم کررکھا ہے۔یہاں کے مکینوں نے بتایا کہ اس سے پہلے جو بلدیہ کے صدر تھے ان سے کوئی کام نہیں ہوا ہے، مگر ہم چاہیں گے کہ اب جو نئے صدر کا انتخاب ہوا ہے تو کم ازکم وہ شہر کی صفائی پر پوری توجہ دیتے ہوئے عوام کے لئے راحت پہنچانے کا کام کریں۔"
عوام کا کہنا ہے کہ بارش کے موسم سے پہلے تعلقہ بھرمیں سڑک کنارے واقع نالوں کی مکمل صفائی ہو یا جمے ہوئے گندے پانی سے بیماریوں کی روک تھام کے لئے بلیچنگ پاؤڈر چھڑکنا ہو، بلدی اداروں کی جانب سے ایسا کوئی بھی قدم اٹھایا نہیں جاتا۔ شہری بلدیہ کو چاہیے کہ بارش کے پانی کے نکاسی کے لئے بنے ہوئے نالوں کا معائنہ کرے اور ان نالوں کی صاف صفائی کو یقینی بنائیں۔ا س لئے کہ خطرناک وبائی امراض پھیلنے کے بعد بلدیہ اور محکمہ صحت کی طرف سے علاج کی تدابیر سے بہتر ہے کہ پہلے ہی سے اس کے اسباب کا تدارک کیا جائے۔