ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گزشتہ برس فرقہ وارانہ تشدد کے کل 703 معاملات پیش آئے، 86 لوگوں کی جان گئی 

گزشتہ برس فرقہ وارانہ تشدد کے کل 703 معاملات پیش آئے، 86 لوگوں کی جان گئی 

Thu, 21 Dec 2017 10:46:18    S.O. News Service

نئی دہلی، 20 دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ملک میں کسی شعبہ میں وکاس ہو یا نہ ہو مگر یہ ضرور ہے کہ ملک نے فرقہ وارانہ تشدد میں ’ وکاس ‘ ضرور پیدا کیا ہے ۔ہندو مسلم موضوع پر ٹی وی مباحثہ نے ملک کے عوام کے ذہنی صلاحیت اس قدر ماؤف کردی ہے کہ اب وہ انسان و غیر انسان میں کوئی تمیز نہیں کرتے ؛ بلکہ وہ ٹی وی اور ٹی وی اینکروں کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈہ میں اس قدر حواس باختہ ہوچکے ہیں کہ انہیں اپنی تہذیب اور انسانیت بھی یاد نہیں رہتی ۔اسی ٹی وی مباحثہ کا خمیازہ یہ ہے کہ سال 2016 میں فرقہ وارانہ تشدد کے ملک بھر میں کل 703 معاملات پیش آئے جن میں 86 لوگوں کی جانیں چلی گئیں ۔ اس کی اطلاع آج راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ ہنس راج گنگا رام نے دی ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ سال 2014 میں ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے 644 کیس ہوئے جن 95 لوگوں کی جان چلی گئی۔ سال 2015 میں فرقہ وارانہ تشدد کے ہوئے 751 معاملات میں 97 لوگ مارے گئے تھے۔ گزشتہ برس ایسے کل 703 واقعات پیش آئے جن میں 86 لوگوں کی جانیں چلی گئیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2016 میں اترپردیش میں فرقہ وارانہ تشدد کے سب سے زیادہ 162 کیس ہوئے جن میں 29 لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔کرناٹک میں اس طرح کے فرقہ وارانہ تشدد کے 101 کیس ہوئے جن میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے اور مہاراشٹر میں ایسے 68 معاملات میں چھ افراد کی جا نیں تلف ہوئیں ۔ ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں جن میں دوسری باتوں کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں صورت حال سے نمٹنے کے لئے معیاری آپریشن طریقہ کار کی رہنمائی کی گئی ہے ۔ یہ اسی ٹی وی مباحثہ کی دین ہے کہ سفاک قاتل شمبھو لا ل ریگر کی حمایت میں اسے کے حامیوں نے اودے پور عدلیہ کے احاطہ میں بھگوا پرچم بھی لہرادیا اور انتظامیہ بس خاموش تماشائی بنی رہی ۔


Share: