بنگلورو۔2؍دسمبر(ایس او نیوز)ریاستی وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ ریاست میں شدید خشک سالی اور بارش کی قلت کے باوجود بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ نہ آئے اور کہیں بھی لوڈ شیڈنگ نہ ہو اس کیلئے احتیاطی قدم اٹھائے جائیں گے۔آج اسمبلی میں وقفۂ سوالات کے دوران ڈی سی تمنا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ روزانہ 800تا1200 میگاواٹ بجلی کی قلت درپیش ہے۔اس کو دور کرنے کیلئے حکومت نجی ذرائع سے بجلی حاصل کرکے اسے کسانوں اور دیگر گاہکوں کو مہیا کرانے پر غور کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ موسم گرما کے دوران بجلی کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے، اس پر انتظامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی خریداری کیلئے احتیاطی طور پر قلیل مدتی معاہدہ بھی کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ پانی کی کمی کے سبب بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ آنے والے دنوں میں پیداوار میں اس کمی سے نمٹنے کیلئے ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔ اس سے قبل ڈی سی تمنا نے کہاکہ دیہی علاقوں میں صرف دو تا پانچ گھنٹے بجلی کی فراہمی ہوپارہی ہے۔ کسانوں کوروانہ کم از کم سات گھنٹے بجلی مہیا کرانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر شمسی توانائی کی پیدوار کو بڑھانے پر بھی زور دیا جائے ۔ وزیر موصوف نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ کسانوں کو روزانہ کم از کم سات گھنٹے بجلی فراہم کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی مانا کہ شمسی توانائی کی طرف سے محکمہ نے جو کوششیں کی ہیں ،اب تک اس میں خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔