ممبئی،19؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)شیوسینا نے اپنی حمایتی بی جے پی پر شدید حملہ بولتے ہوئے کہا کہ گجرات ماڈل ہل گیا ہے۔اور ریاست کے انتخابی نتیجے تاناشاہی حکومت میں یقین رکھنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔شیوسینا نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی اور پاٹیدار لیڈر ہاردک پٹیل کو’بندر‘کہہ کر ان کا مذاق اڑایا گیا، لیکن ان بندروں نے شیر کو طمانچہ جڑ دیا۔گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے ایک دن بعد شیوسینا نے یہ حملہ کیا ہے۔بی جے پی کو اس بار 99سیٹ ملی جبکہ 2012کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو 115سیٹیں ملی تھیں۔کانگریس کو پچھلی بار 61سیٹ ملی تھی جبکہ اس بار 77سیٹیں حاصل کر کے پارٹی نے اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا۔شیوسینا نے کہا کہ بی جے پی کسی طرح انتخابی امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، لیکن دکھا ایسے رہی ہے جیسے اسے بہت اچھے نمبر ملے ہوں۔شیوسینا نے کہاکہ بی جے پی نے گجرات اور ہماچل میں جیت ضرور حاصل کی، لیکن کانگریس بھی ہاری نہیں ہے۔’کانگریس مکت بھارت‘ کا خواب پورا نہیں ہو سکا۔پارٹی نے کہا کہ گجرات کے انتخابی نتائج تاناشاہی حکومت میں یقین رکھنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔بی جے پی گرچہ ہی الیکشن جیت گئی ہو، لیکن چرچے تو راہل گاندھی کی ترقی کے ہیں۔کہا جا رہا تھا کہ گجرات میں بی جے پی 150سے کم سیٹیں نہیں جیتے گی، لیکن 100 سیٹوں تک پہنچنا بھی ان کے لئے مشکل ہو گیا۔پارٹی نے بی جے پی سے کہا کہ وہ گجرات میں راہل اور ہاردک کی زبردست کارکردگی پر غور کرے پارٹی نے کہا کہ گجرات کے 99اسمبلی حلقوں کے لوگوں نے مودی کا ساتھ دیا، لیکن ’راہل گاندھی اورہاردک پٹیل کی جوڑی ‘نے 77سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ۔شیوسینا نے کہا کہ کچھ لوگوں نے راہل اور ہاردک کو بی جے پی کی قیادت کے مقابلہ میں ’بندر‘قرار دیا، لیکن ان بندروں نے شیر کو طمانچہ جڑ دیا ہے اور خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔