ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / گؤ رکشا کے نام پر قتل عام بندو کردو مسلمانوں پر ظلم بند نہیں ہوا تو ملک کے مزید دو ٹکڑے ہوں گے : پی ڈی پی لیڈر مظفر حسین بیگ

گؤ رکشا کے نام پر قتل عام بندو کردو مسلمانوں پر ظلم بند نہیں ہوا تو ملک کے مزید دو ٹکڑے ہوں گے : پی ڈی پی لیڈر مظفر حسین بیگ

Sun, 29 Jul 2018 01:33:49    S.O. News Service

سری نگر،29؍جولائی(ایس او نیوز؍یو ا ین آئی) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان مظفر حسین بیگ نے کہا ہے کہ اگر بھارت میں بقول ان کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم بند نہیں ہوا تو ملک کے مزید دو ٹکڑے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آج گائے اور بھینس کو ساتھ لے کر چلنا گناہ بن گیا ہے ۔ مظفر بیگ ہفتہ کے روز یہاں شیر کشمیر پارک میں پی ڈی پی کے 19 ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ گائے اور بھینس کے نام پر بقول ان کے مسلمانوں کے قتل کو بند کرائیں۔ مسٹر بیگ نے کہا کہ ہم نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا تو کئی لوگوں نے سمجھا کہ آپ نے اس جماعت کے ساتھ ہاتھ ملایا جو مسلمانوں کی دشمن ہے ۔ اوریہ حقیقت ہے کہ پرسوں کوئی بھینس کے ساتھ چل رہا تھا تو اسے پکڑ کر قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس اسٹیج سے وزیر اعظم نریندر مودی صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ گائے اور بھینس کے نام پر مسلمانوں کو قتل کرنا بند کردو۔ اس ہندوستان کے ایک بار دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ظلم بند نہیں ہوا تو ایک بار پھر دو ٹکڑے ہوسکتے ہیں ۔ مظفر بیگ کے بیان سے تین روز قبل یعنی 25جولائی کو پی ڈی پی صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ملک میں پیش آنے والے ماب لنچنگ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا ،آج لنچنگ کو یہ کہہ کر جائز ٹھہرایا جارہا ہے کہ کون کیا کھاتا ہے ۔آنے والے وقت میں عصمت دری جیسے سنگین جرائم کا بھی ایسے ہی دفاع کیا جائے گا۔کیا ہم ایسے ہی بھارت کا تصورکر رہے ہیں ؟۔ پی ڈی پی لیڈر مظفر بیگ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ پاکستان کے ساتھ بات چیت اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اتحاد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے اس لئے بی جے پی سے ہاتھ ملایا تھا تاکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک ہو۔ ہم نے ان کے ساتھ کرسی کے لئے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔ کرسیاں آتی ہیں چلی جاتی ہیں۔ اکبر بادشاہ بھی کرسی پر بیٹھا تھا۔ سکندراعظم بھی کرسی پر بیٹھا تھا۔ آج کسی کو پتہ ہی نہیں کہ وہ کہاں دفن ہیں۔ اگر لوگوں کو کوئی بات یاد رہے گی تو صرف یہ کہ ہم نے بی جے پی کے ساتھ صرف اس لئے ہاتھ ملایا تھا، تاکہ اس ملک میں انصاف ہو۔ ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ انصاف ہو۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت ہو اور بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے گا۔


Share: