کولار18 اکتوبر (ایس او نیوز) مالور میں سرکل انسپکٹر راگھویندرن نے ریوالور سے گولی چلا کر خود کشی کرلی۔ مشتبہ حالات میں راگھویندرن کی خود کشی نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ پچھلے ایک سال سے مالور تعلقہ کے انسپکٹر کی حیثیت سے متعین 42 سالہ راگھویندرن نے کل رات دیڑھ بجے پولیس تھانہ میں اپنے چیمبر کے اندر سینے اور سر پر گولیاں مار کر خود کشی کرلی۔
بتایاجاتاہے کہ راگھویندرن نے اپنی سرکاری کرسی پر بیٹھ کر ہی خود کو گولی مار لی۔ راگھویندرن کی خود کشی کا یہ مبینہ معاملہ عوامی حلقوں میں زبردست بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ راگھویندرن کے بھائی نے کہا ہے کہ جس طرح راگھویندرن کی موت ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے اسے خود کشی مانا نہیں جاسکتا،بلکہ انہوں نے قتل کی شکایت پولیس تھانہ میں درج کرائی ہے۔
کولار مین روڈ پر صندل کی لکڑی کی فروخت کی اطلاع ملنے کے بعد کل رات راگھویندرن نے ایک مقام پر چھاپہ مارنے کی تیاری کی تھی، لیکن بعد میں تھانہ پہنچ کر خود کشی کرلی۔ اپنی خود کشی سے پہلے راگھویندرن نے تھانہ میں کسی سے بات نہیں کی اور یہ بھی اشارہ دیاتھا کہ اس کے کمرہ میں کوئی نہ آئے۔رات دیڑھ بجے جب گولیوں کی آواز سنی گئی تو جوان اندر داخل ہوئے۔ اپنے مرنے سے قبل راگھویندرن نے جو ڈیٹ نوٹ لکھا ہے اس میں اپنی موت کیلئے خود ذمہ داری لی ہے۔ صبح اعلیٰ پولیس افسران نے مالور پولیس تھانہ کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ ضلع کی ایس پی ڈاکٹر دویا گوپی ناتھ کو فوری طور پر اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔ فورنسک ماہرین نے تھانہ کا معائنہ کیا۔ اخباری نمائندوں سے با ت چیت کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام نے بتایاکہ راگھویندرن ایک دیانتدار پولیس انسپکٹر تھے، ان کی موت کی وجوہات کی جانچ سختی سے کی جائے گی اور بعد میں ہی طے کیا جائے گا کہ یہ خود کشی تھی یا قتل۔ افسران نے راگھویندرن کے مبینہ ڈیٹ نوٹ کے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا اور کہاکہ تحقیقات کو آگے بڑھانے کے بعد ہی اس سلسلے میں کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ راگھویندرن 2003کی بیچ کے سب انسپکٹر تھے، دیڑھ سال قبل انہیں سرکل انسپکٹر کے طور پر ترقی دی گئی تھی۔کولار ضلع کے مالور میں تعیناتی سے قبل وہ شہر کے شرجا پور پولیس تھانہ میں انسپکٹر رہ چکے ہیں۔ راگھویندرن پر رشوت ستانی کے الزام میں لوک آیوکتہ میں بھی ایک معاملہ درج کیا گیاتھا۔یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ راگھویندرن پر یہ بھی الزامات تھے کہ بہت سارے بے قصور افراد کو اٹھاکر انہوں نے فرضی مقدموں میں پھنسایا ہے۔