بنگلورو۔یکم نومبر(ایس او نیوز)ریاستی وزیر ہاؤزنگ ایم کرشنپا نے کہا ہے کہ ریاست میں زبان ،زمین اور پانی کی اہمیت کے متعلق بیداری لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کرناٹک میں علاقائی زبان کنڑا کے مقابلے انگریزی اور دیگر زبانوں کی تشہیر کافی بڑھ چکی ہے۔ریاستی ز بان کو اپنی بقا کیلئے جدوجہد پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ منڈیا میں منعقدہ راجیواتسوا تقریبات میں ترنگا لہرانے کے بعد مخاطب ہوکر انہوں نے کہاکہ منڈیا ضلع نے کنڑا زبان ، ادب اور دیگر شعبوں کیلئے بہت سارے سپوت دئے ہیں۔ پہلا کنڑا ڈرامہ سنگاچاریہ نے لکھا، اسی طرح معروف ادیب بی ایم شری ، سری کانٹے گوڈا ، کے ایس نرسمہا سوامی کا تعلق اس ضلع سے رہا ہے۔وزیر موصوف نے کہاکہ ریاستی حکومت نے تمام طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے متعدد اسکیمیں رائج کی ہیں۔ان میں انا بھاگیہ اسکیم کے تحت 4.27لاکھ بی پی ایل خاندانوں کو راشن فراہم کیاجارہا ہے۔ کرشی بھاگیہ اسکیم کے تحت 2214افراد کوزرعی زمین دی گئی ہے، اور 5.2کروڑ روپیوں کی لاگت پر ضلع بھر میں ویر ہاؤز کی تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ منڈیا ضلع میں 15530 رعیتوں کو مٹی کی جانچ کے کارڈ مہیا کرائے گئے ہیں۔ یہاں روزانہ 1.48لاکھ اسکولی بچوں کو کشیرا بھاگیہ اسکیم کے تحت دودھ فراہم کیا جارہا ہے، سوچا بھارت مشن کے تحت منڈیا میں 3.22 لاکھ بیت الخلاء تعمیر کروائے گئے ہیں۔ رواں سال کے اختتام تک پورا منڈیا ضلع پاک وصاف قراردیا جائے گا۔ اور یہاں لوگوں کو اپنی ضرورت سے فراغت کرنے کیلئے باہر کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اس موقع پر رکن کونسل سری کنٹے گوڈا، اپاجی گوڈا ، میونسپل صدر بورے گوڈا وغیرہ موجود تھے۔