کنداپور 14/ستمبر(ایس او نیوز)ریاستی سرکار کے لئے ایک طرف کاویری آبی تنازعہ اور اس سے پھوٹ پڑنے والے احتجاج اور فساد سے نمٹنا درد سر بنا ہوا ہے تو دوسری طرف بیندور حلقہ اسمبلی کے موواڈی نامی علاقے میں سینکڑوں دلت خاندانوں نے اپنے لئے رہائشی سہولتوں کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج کا راستہ اپنایا ہے۔
بے گھر دلت خاندانوں نے اجتماعی طور پر موواڈی کے سروے نمبر112-A-Pوالی زمین پر اتی کرمن کرتے ہوئے جھونپڑے تعمیر کئے ہیں۔ مگرجب ریوینیو محکمہ کے افسران نے اس غیر قانونی قبضے کو ہٹانے کی کوشش کی تو وہاں حا لات کشیدہ ہوگئے۔
موواڈی کی مذکورہ زمین کے بارے میں معلوم ہوا ہے اس سروے نمبر اوراطراف میں تقریباً 37 ایکڑ سرکاری زمین ہے۔ اس میں دس ایکڑ کے قریب زمین دیگر ذات اور فرقے والوں نے قبضہ کرکے اتی کرمن سکرمن کے تحت اپنے نام کرلی ہے۔بقیہ 27 ایکڑ زمین پر کاجو کی کاشت کی جارہی ہے۔مبینہ طور جب حقیقی طو ر پر بے گھر لوگوں نے رہائشی سہولت فراہم کرنے کے لئے سرکار کو درخواستیں دیں تو ان کی یہ درخواستیں نامنظور کرتے ہوئے انہیں یہ جواب دیا گیا کہ کہیں بھی خالی سرکاری زمین دستیاب نہیں ہے۔
اس پس منظر میں تقریباً 125 دلت خاندان والوں نے بالآخر پتہ چلایا کہ 112نمبر والی سرکاری زمین موجود ہے اور اس پر دیگر ذات والوں نے پہلے سے قبضہ بھی کرلیا ہے۔ اور ان کے خلاف گرام پنچایت نے کوئی بھی کارروائی نہیں کی ہے۔لہٰذا گزشتہ آٹھ دس دن قبل یہاں پر دلتوں نے بھی تقریباً 125 جھونپڑے تعمیر کردئے۔ اس صورتحال سے پریشان ہوکر گرام پنچایت والوں نے محکمہ ریوینیو سے رابطہ قائم کیا۔ تحصیلدار اور دیگر افسران نے جب ان دلتوں کو یہاں سے زبردستی ہٹانے کی کوشش کی تو دلتوں کا غصہ اور احتجاج اور تیز ہوگیا۔اب انہوں نے یہ ضد پکڑ رکھی ہے کہ اس سے پہلے قبضہ کرنے والوں کو دیا گیا پٹا اور حق کے دستاویز اگر حکومت رد کرتی ہے اور ان سے وہ زمین واپس لیتی ہے تو وہ لوگ بھی اپنا قبضہ چھوڑیں گے ورنہ کسی قیمت پر یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔
موواڈی کے دلتوں کے اس احتجاج کو کرناٹکا دلت سنگھرش سمیتی نے اپنی حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔اور کہا ہے کہ اگر دلتوں پر کسی بھی قسم کی زبردستی کی گئی تو پھر دلتوں کے خلاف مظالم کی روک تھام قانون کے تحت افسران پر مقدمات درج کیے جائیں گے۔