ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کنداپور سرکاری کالج پرنسپل کا ایوارڈ روک لیا گیا

کنداپور سرکاری کالج پرنسپل کا ایوارڈ روک لیا گیا

Thu, 05 Sep 2024 11:14:13    S.O. News Service

بینگلورو،5  / ستمبر (ایس او نیوز) آج ٹیچرس ڈے کے موقع پر ریاستی حکومت کی طرف سے کنداپور سرکاری پی یو کالج کے پرنسپل رام کرشنا بی جی کو جو بیسٹ پرنسپل کا ایوارڈ دیا جانے والا تھا اسے ترقی پسند گروپوں اور دیگر سماجی حلقوں کے اعتراضات کو دیکھتے ہوئے روک لیا گیا ہے ۔
    
رام کرشنا کو ریاستی سطح پر بہترین پرنسپل ایوارڈ دینے کا اعلان ہوتے ہی تنازعہ کھڑا ہوگیا اور سابقہ بی جے پی حکومت کے دوران دو سال قبل مسلم طالبات کو حجاب کے مسئلے پر مسلسل کئی دن تک کالج کے گیٹ پر روکنے اور حجاب کے ساتھ اندر داخل ہونے کی پابندی کو بڑی بے رحمی کے ساتھ لاگو کرنے کی ویڈیو کلپ اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور اس پر بحث کا سلسلہ چل پڑا ۔ کانگریسی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ، ترقی پسند گروپوں اور ماہرین تعلیم کی طرف سے سخت اعتراض جتایا گیا ۔
    
ایس ڈی پی آئی دکشن کنڑا صدر انور سادات نے x (ٹوئٹر)  پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا :"وہ پرنسپل جس نے مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے مہینوں تک باہر دھوپ میں کھڑے رہنے پر مجبور کیا، اسے تو پرنسپل بنے رہنے کا بھی اخلاقی حق نہیں ہے ۔ کانگریسی حکومت نے کیوں اس شخص کو ایوارڈ کے لئے نامزد کیا ہے ؟"  
    
عوامی اعتراضات اور دباؤ کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے بہترین پرنسپل کا اعلان شدہ ایوارڈ  رام کرشنا کو تفویض کرنے کا فیصلہ روک لیا ۔ 
    
معروف انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق کنداپور سرکاری پی یو کالج کے پرنسپل رام کرشنا بی جی کا کہنا ہے کہ 'ایوارڈ واپس نہیں لیا گیا ہے ، محکمہ (تعلیمات) نے کہا ہے کہ کچھ تیکنیکی وجوہات  کی وجہ سے اسے موخر کیا گیا ہے ۔ لیکن اصل وجہ نہیں بتائی گئی ہے ۔'  رام کرشنا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے انجان نمبروں سے نفرت انگیز پیغامات بھی مل رہے ہیں ۔ جبکہ اُڈپی محکمہ تعلیمات سے متعلقہ افسران کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کے تنازعے کا انہیں کوئی علم نہیں ہے ۔


Share: