بنگلورو۔11؍اپریل(ایس او نیوز) شدید خشک سالی اور گرمی سے بدحال ریاستی عوام کیلئے آج حکومت نے مصیبتوں کو دوبالا کرنے والا بجلی کاجھٹکا دے دیا۔کرناٹکا الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (کے ای آر سی) نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیلئے بجلی کمپنیوں کی مانگ کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے یکم اپریل کی بلنگ سے اضافہ کو لاگو کرنے کا اعلان کردیا۔
کے ای آر سی نے بنگلور اور اس کی حدود کو چھوڑ کر میسکام ، چیسکام اور ہیسکام کیلئے اضافہ یکسانیت سے کیا ہے۔جہاں تک راجدھانی بنگلور اور اس کے آس پاس کے علاقے جو بیسکام کے دائرے میں آتے ہیں وہاں پر خشک سالی ، بجلی کی خریداری کیلئے اضافی قیمت ، آمدنی میں کمی اور دیگر امور کی بنیاد پر اضافہ کا الگ ڈھانچہ طے کیاہے۔ یہ بات آج کے ای آر سی یل کے چیرمین شنکر لنگے گوڈا نے بتائی۔ انہوں نے بتایاکہ 2015-16 کے دوران ریاست کی ایک اہم بجلی کی پیداوار کا مرکز شراوتی میں بجلی کی پیداوار بارش نہ ہونے کے سبب بہت کم رہی، بلکہ یہاں سے ملنے والی بجلی نہ ملنے کے برابر رہی ، جس کی وجہ سے ریاستی حکومت کو بیرونی ریاستوں سے بجلی کی خریداری کرنی پڑی، اس کا اثر بجلی کمپنیوں کی مالی صورتحال پر مرتب ہوا، ان حالات میں حکومت کیلئے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔
انہوں نے بتایاکہ 2015-16کے درمیان بجلی کمپنیوں کی آمدنی میں 2296کروڑ روپیوں کی کمی آئی ہے۔ اس بار بھی چونکہ بیشتر آبی ذخائر خالی پڑے ہوئے ہیں ، اسی لئے بجلی کی پیداوار کی صورتحال میں سدھار کے امکانات بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی کے بجز ریاست بھر کے شہری علاقوں میں ابتدائی 30یونٹ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو خریداروں سے فی یونٹ 3.20 روپے لئے جائیں گے۔ 30 سے سویونٹ تک یہ رقم 4.45روپے سے بڑھا کر 4.75 روپے کردی گئی ہے۔ 100سے 200 یونٹ بجلی کی کھپت پر فی یونٹ 5.9روپے کی بجائے 6.25 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ 200 یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والوں سے 6.95 روپے کی بجائے 7.35روپے وصول کئے جائیں گے۔ بیسکام کی حدود میں اگر ماہانہ 300یونٹ بجلی استعمال کی گئی تو 6.95 روپیوں کی بجائے 7.30روپے فی یونٹ وصول کئے جائیں گے۔ 301 سے400 یونٹ تک بجلی کے استعمال پر فی یونٹ رقم 6.95 روپیوں سے بڑھاکر 7.45 روپے کردی گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں بھی یہ اضافہ لاگو کیاگیا ہے، 30 یونٹ بجلی کے استعمال پر اب انہیں 3.15 روپے ادا کرنے ہوں گے، 100 یونٹ تک بجلی کے استعمال پر4.60 روپے فی یونٹ ، 200یونٹ کے استعمال پر 5.95روپے اور 200 سے زیادہ یونٹ استعمال کرنے پر 6.85 روپے فی یونٹ ادا کرنے ہوں گے۔بیسکام کی حدود میں آنے والے دیہی علاقوں کیلئے بھی بجلی کی نئی نرخیں وضع کی گئی ہیں۔صنعتی بجلی کے استعمال میں بھی اضافہ کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ان کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔تجارتی استعمال کی بجلی پر فی یونٹ 3.50 تا7.00روپے کا اضافہ کیاگیاہے۔ بتایاجاتاہے کہ ایل ای ڈی بلبوں کے زیادہ استعمال کو بڑھاوا دینے اور اس کے ذریعہ بجلی کی بچت یقینی بنانے کے مقصد سے نرخوں میں یہ اضافہ کیاگیا ہے۔حکومت نے تمام سرکاری اسپتالوں ، خیراتی اداروں ، سرکاری تعلیمی اداروں اور امداد یافتہ تعلیمی اداروں کیلئے بھی بجلی کی نرخیں مقرر کی ہیں۔ایک لاکھ یونٹ بجلی تک کے استعمال پر انہیں فی یونٹ 6.40روپے ادا کرنے ہوں گے، اس سے زیادہ استعمال کی گئی تو 6.80روپے وصول کئے جائیں گے۔