بنگلورو۔4/نومبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے وزارت میں جگہ حاصل کرنے میں ناکام اراکین اسمبلی کو خوش کرنے کیلئے انہیں 21/ سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کی چیرمین شپ دینے کا فیصلہ بھی ان لوگوں کو مطمئن نہیں کرپایا۔ متعدد اراکین اسمبلی نے حکومت کی طرف سے انہیں دی گئی کارپوریشن کی چیرمین شپ پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے اور عہدہ سنبھالنے میں تذبذب کا اظہار کررہے ہیں۔
91/ سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں میں سے 21اراکین اسمبلی کو منتخب بورڈز اور کارپوریشنوں کی چیرمین شپ دینے کا اعلان کل کیاگیا۔ اراکین اسمبلی نے ان کی سینارٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے چیرمین شپ کیلئے تقررات کو نامناسب قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے اس اقدام پر ان لوگوں نے سخت اعتراض کیا اور کہاکہ وزیراعلیٰ نے اپنے اقرباء کو اہم بورڈز اورکارپوریشنوں کی چیرمین شپ دے کر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا ہے کہ سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کی چیرمین شپ برائے نام سونپی گئی ہے۔ ان عہدوں سے انہیں یا پارٹی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے، اسی لئے بعض اراکین اسمبلی نے چیرمین شپ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلاری سے منتخب رکن اسمبلی ڈاکٹر این وائی گوپال کرشنا نے کہاکہ پانچ مرتبہ وہ اس حلقہ سے نمائندگی کررہے ہیں ان کی سینارٹی کو نظر انداز کرکے انہیں ڈی ایم ننجنڈپا کمیٹی سفارشات نفاذ کمیٹی کی چیرمین شپ دی گئی ہے۔وہ سوچ رہے ہیں کہ اس چیرمین شپ کو منظور کریں یا نہ کریں۔ اپنے حلقہ کے پارٹی لیڈروں سے مشورہ کے بعد وہ اس سلسلے میں فیصلہ لیں گے۔ اس دوران بیندرو کے رکن اسمبلی کے گوپال پجاری نے کرناٹکا فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی چیرمین شپ کے عہدہ کو ٹھکرادیا ہے۔ گوپال پجاری ریاستی وزارت میں جگہ پانے کے اہم دعویداروں میں شمار کئے جارہے تھے، ان کی جگہ پر یہاں کے ایک اور رکن اسمبلی پرمود مادھو راج کو وزارت میں لیا گیا۔اسی وقت سے گوپال پجاری وزیراعلیٰ سدرامیا سے ناراض تھے تاہم انہیں مطمئن کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ نے جو چیرمین شپ انہیں سونپی ہے اس سے بھی وہ مطمئن نہیں ہیں۔