بنگلورو19/دسمبر( ایس او نیوز)ریاستی وزیر برائے اوقاف اقلیتی امور و بنیادی و پرائمری تعلیم تنویرسیٹھ نے آج اشارہ دیا ہے کہ کرناٹک وقف بورڈ کیلئے انتخابات فروری تک کروانے کیلئے تیاریاں جاری ہیں اور انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں حائل دشواریاں دور کرلی گئی ہیں۔ آج اردو میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے موقع پر تنویر سیٹھ نے بتایا کہ وقف بورڈ کے انتخابات کیلئے اس مرتبہ ریاست کے چارڈویژنوں گلبرگہ، بلگام، میسور اور بنگلور میں متعلقہ ڈویژنوں کے اوقافی اداروں کے متولیوں کیلئے ووٹ ڈالنے پولنگ بوتھ بنائے جارہے ہیں اور وہاں الیکشن افسروں کا تقرر کیا جانے والاہے۔ اوقافی اداروں کے انتخابات کیلئے وقف ایکٹ کے تحت اعتراضات داخل کرنے کیلئے پہلے جہاں 7دنوں کی مہلت تھی اسے انہوں نے ترمیم کرواکر اب 15دن تک بڑھادی ہے اور ووٹرلسٹ پر اعتراضات داخل کرنے کیلئے منظورکروالی ہے۔ وقف بورڈ کے انتخابات کے سلسلہ میں بلاوجہ چند افراد نے عدالت میں مقدمہ دائر کرکے انتخابات ملتوی کرانے کی کوشش کی تھی مگر حکومت نے عدالت میں مقدمہ جیت لیاہے۔ موجودہ قوانین میں رول (4)11 کے تحت رکن پارلیمان کی فہرست پارلیمان کے سکریٹری جنرل سے حاصل کرتی تھی لیکن سکریٹری جنرل نے واضح کردیا ہے کہ ممبران پارلیمان و راجیہ سبھا کی فہرست ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ اسی طرح لیجس لیٹیو کونسل اور اسمبلی سے اراکین کونسل و اراکین اسمبلی کی فہرست حاصل کرنی تھی، وقف بورڈ کے سکریٹری کے ذریعہ حاصل کرلی گئی ہے۔ پارلیمانی ممبران کی فہرست بھی اور سابق اراکین پارلیمان، راجیہ سبھا اسمبلی اور کونسل کے علاوہ بارکونسل کے ممبرس کی لسٹ تیار کرکے اسے الیکشن افسر کے پاس بھیجا گیاہے۔ ریاست کے 1169اوقافی اداروں کے متولیوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔ جن اوقافی اداروں سے بورڈ کو سالانہ ایک لاکھ سے زائد وقف کانٹری بیوشن حاصل ہورہاہے ان کے نام ووٹرلسٹ میں ہیں۔ متولیوں کی سہولت کیلئے پہلی بار تمام 4ریوینیو ڈویژنوں کے ہیڈکوارٹرس میں پولنگ بوتھ بنائے جارہے ہیں جس سے متولیوں کو ووٹ دینے میں آسانی ہوگی۔ ڈرافٹ ووٹرلسٹ تیار ہوچکی ہے اور اس ووٹرفہرست کا جائزہ لے کر اگر کوئی اعتراضات داخل کرنے ہیں تو اس کیلئے 15دنوں کا وقت بھی دیا جارہاہے اور قوی امید ہے کہ جنوری 15تک ووٹرلسٹ تیار ہوجائے گی اور انتخابات فروری کے آخری ہفتہ کے اندر کروادئیے جائیں گے۔ بعدازاں فروری کے اخیر تک بورڈ کی تشکیل عمل میں آجائے گی۔