گلبرگہ، 18/اگست(ایس او نیوز/شاکر ایم اے حکیم) وزیردیہی ترقیات و پنچایت راج حکومت کرناٹک مسٹر پریانک کھرگے نے گلبرگہ میں ایک صحافتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرناٹک کی وزارتی کابینہ میں توسیع کی خبریں محض قیاس آرائیوں پر مشتمل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی انتخابات کے بعد سے آج تک اس ضمن میں کسی قسم کی مشاورت نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کرناٹک میں کانگریس پارٹی کے ارکان و قائیدین متحد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں سبی جے پی کو قیادت کے مسائیل کا سامنا ہے جیسا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر بی وجئیندرا او اپوزشن لیڈر آر اشوکاکو خود اپنی پارٹی کے ارکان سے بغاوت کا سمامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پارٹی لیڈ ر سی ٹی روی جو ریاستی بی جے پی صدر پر تنقید کیا کرتے ہیں اب خاموش نظر آرہے ہیں ۔ وہ آنے والے دنوں میں بیلام کے گروپ کے ساتھ شریک ہوسکتے ہیں۔ مسٹر پریانک کھرگے نے بی جے پی قائیدین سے سوال کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ سدرامیا پر عائد کئے گئے مو ڈا معاملے کے بارے میں اس وقت کیوں خاموش تھے جب وہ خود ریاست میں اقتدار پر تھے۔۔ اب کانگریس حکومت اس معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک جج کا بھی تقرر کیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر کمار سوامی کی جانب سے عائد کردہ ایک الزام کا جواب دیتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ تنگ بھدرا ندی کے ڈیم کی گیٹ تکنیکی وجوہات کے سبب ٹوٹ گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ منسٹر کمار سوامی کانگریس کی ریاست کرناٹک میں کامیابی سے خوش نہیں ہیں۔ مسٹر پریانک کھرگے نے کہا کہ ریاستی حکومت گیارنٹی اسکیموں کو بند نہیں کریگی۔