ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں پانی کا بحران ؛ بنگلور ومیں 3 ہزار بورویل خشک

کرناٹک میں پانی کا بحران ؛ بنگلور ومیں 3 ہزار بورویل خشک

Thu, 07 Mar 2024 19:13:17    S.O. News Service

بنگلورو، 7/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) فروری کے مہینے میں شدیدگرمی سےکرناٹک ریاست کو پانی کی شدید قلت کا سامناکرنا پڑرہا ے اورراجدھانی بنگلور ومیں3 ہزار بورویل خشک ہوچکے ہیں۔ ریاستی حکومت پانی کی قلت کا مسئلہ کرنے کیلئے جنگی پیمانے پر اقدام کررہی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ شہربنگلور ومیں3 ہزارسے زیادہ بورویل سوکھ چکے ہیں  میرے کے گھر کے بورویل میں بھی پانی نہیں ہے۔

 نائب وزیر اعلیٰ نےاس معاملے میں نامہ نگاروں کو بتایاکہ ’’ ریاستی حکومت ان تمام مقامات کی نشاندہی کیلئے24 گھنٹے کام کر رہی ہے جہاں پانی دستیاب ہے۔ڈی کے شیوکمار نے کہا ’’میں اس صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہوں۔ میں نے تمام عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ ہم ٹینک حاصل کررہے ہیں اور ان مقامات کی نشاندہی کر رہے ہیں جہاں پانی دستیاب ہے۔ 217سرنگوں سے پانی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بنگلورو میں3ہزار سے زائدبورویل سوکھ چکے ہیں، بس کاویری سے جو  پانی آرہا ہے وہ آ رہا ہے۔‘‘

 نائب وزیر اعلیٰ نےمیکداتو پروجیکٹ کے تعلق سے ریاست کی مدد نہ کرنے کا بھی مرکز پرالزام لگایا۔ انہوں نے کہا’’ہمیں ایک بہت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے ہم پانی کیلئے میکداتو پروجیکٹ کیلئے چل پڑے ۔ مجھے امید ہے کہ مرکزی حکومت کم از کم اب ہماری مدد کیلئے آمادہ ہو گی تاکہ  اور میکداتو  کا مسئلہ حل کرے گی ۔‘‘

 گزشتہ سال ڈی کے شیوکمار نے کہا تھا کہ مجوزہ میکداتو پروجیکٹ اور کرناٹک میں کاویری بیسن میں پانی کاایک متوازن ذخیرہ  تیار کرکے ہی  پڑوسی ریاستوں کے ساتھ پانی کی تقسیم کا تنازع حل کیا جاسکتا  ہے۔پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سےبنگلور  کے شہری  پانی کے ٹینکروں کیلئے بھاری رقم ادا کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہےکہ ۵؍ ہزارلیٹر کا ٹینکر جس کی قیمت شہر میں پہلے500 تھی، اب 2ہزار روپے  میںدستیاب ہے۔ شیوکمار نے کہا ’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم تمام لوگوں کو انتہائی مناسب قیمت پر ٹینکر فراہم کریں۔‘‘

4مارچ کو  نائب وزیر اعلیٰ نے ریاست میں ٹینکر سپلائی کرنے والے کمپنیوںکے مالکان کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے7 مارچ کی آخری تاریخ سے پہلے حکام کے ساتھ رجسٹر نہیں کیا تو ان کے ٹینکر ضبط کر لئے جائیں گے۔بنگلور شہر میں پانی کے کل3500 ٹینکروں میں سے صرف ۱۰؍فیصد یعنی 219ٹینکر، حکام کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ اگر وہ مقررہ تاریخ سے پہلے رجسٹر نہیں کرتے ہیں تو حکومت انہیں ضبط کر لے گی۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ریاست  کے 236 میں سے223تعلقہ خشک سالی کی زد میں ہیں۔

کرناٹک سمیت جنوبی ہندوستان کے علاقوں میں بارش نہیں ہوئی:  شمالی اور وسطی ہندوستان کے کچھ علاقوں میں بارش کی وجہ سے درجہ حرارت معمول پر ہے جبکہ کرناٹک سمیت جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں گزشتہ مانسون بارش کم ہوئی اور فروری میں بالکل نہیں ہوئی۔ اس بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے زیر زمین پانی کے ذخائر خشک ہورہے ہیں ۔بنگلور واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے مطابق بنگلور کے مضافات میں وہ علاقے جہاں کاویری ندی سے پائپ لائن کے ذریعے پانی کی سپلائی نہیں ہے، وہ زیادہ متاثر ہیں۔

پرائیویٹ ٹینکر پانی کی طلب پوری کرنے سے قاصر :  پانی کی قلت کے پیش نظر اپارٹمنٹ والے اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن نجی واٹر ٹینکر سروسیز کا کہنا ہے کہ وہ پانی کی طلب پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ ٹینکروں کی قیمت800 سے 2 ہزارروپے تک پہنچ گئی ہے۔ سپلائروںکا کہنا ہے کہ  مقامی ذرائع خشک ہونے کی وجہ سے انہیں دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے۔


Share: