بنگلورو۔17/اکتوبر(ایس او نیوز) سپریم کورٹ کی ہدایت پر کرناٹک اور تملناڈو کے علاقوں میں کایری طاس کے آبی ذخائر کا معائنہ کرنے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنی حقیقت پسندانہ رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں عدالت کو بتایا ہے کہ کرناٹک پانی کی قلت سے دو چار ہے، اسی لئے کرناٹک کی طرف سے تملناڈو کو کاویری کا پانی مہیا کرایا نہیں جاسکتا۔ کمیٹی نے اپنی 12/ صفحات پر مشتمل رپورٹ آج سپریم کورٹ کو پیش کی۔ جس میں دونوں ریاستوں میں کمیٹی نے جو جائزہ لیا وہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے کرناٹک میں پانی کی شدید قلت کو تفصیل کے ساتھ عدالت کے سامنے رکھا اور بتایا کہ کاویری طاس میں بارش کی شدید قلت کا خود انہوں نے مشاہدہ کیا ہے۔ کمیٹی نے بتایا ہے کہ تملناڈو میں آئندہ جنوری تک بارش برقرار رہنے کے امکانات ہیں، اسی لئے تملناڈو کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کرناٹک کو اس ضمن میں ہدایت دی جائے۔ کرناٹک کے آبی ذخائر میں پانی کی قلت اور بارش کی کمی کے سبب فصلوں کو بھاری نقصان کا تذکرہ کرتے ہوئے کمیٹی نے بتایا ہے کہ کرناٹک کے بعض علاقوں میں پینے کے پانی کی بھی قلت ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کمیٹی نے بتایا کہ دونوں ریاستوں میں اس نے آبی ذخائر اور فصلوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ مرکزی ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر کل سپریم کورٹ میں کاویری معاملہ پر کرناٹک کی خصوصی عرضی کے متعلق سماعت کے دوران فیصلہ سنایا جاسکتا ہے۔ پچھلی سماعت میں عدالت نے ہدایت دی تھی کہ تملناڈو کو روزانہ 2000کیوسک پانی کاویری سے مہیا کرایا جائے۔ عدالت کے اس فیصلے کی تعمیل بھی کی جاچکی ہے۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے کرناٹک اور تملناڈو کو خصوصی ٹیم روانہ کرنے کا فیصلہ بھی لیاتھا، جس کے مطابق مرکزی آبی کمیشن کے چیرمین جی ایس جھا کی قیادت میں سہ رکنی ٹیم نے 6تا 10اکتوبر کرناٹک اور تملناڈو کا دورہ کیا۔ کمیٹی کی طرف سے مقررہ وقت پر آج عدالت عظمیٰ کو اپنی رپورٹ سونپ دی گئی۔اس دوران وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج توقع ظاہر کی کہ کاویری معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر مرکزی ٹیم نے کرناٹک اور تملناڈو کا دورہ کیا ہے اس کی طرف سے جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ کرناٹک کے حق میں ہوگا۔ اپنی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ٹیم نے اگر دیانتداری سے اپنی رپورٹ عدالت کو پیش کی ہے تو انہیں یقین ہے کہ اس بار کرناٹک سے ناانصافی نہیں ہوگی، اور کاویری طاس میں پانی کی تقسیم کے تنازعہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سلجھایا جاسکے گا۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ کل عدالت میں کرناٹک کی خصوصی عرضی کی سماعت ہونے والی ہے اس سلسلے میں ریاست کی طرف سے تیاری کرنے کیلئے ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل اور دیگر اعلیٰ افسران دہلی پہنچ چکے ہیں۔