ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری مسئلہ پر کرناٹک ۔تملناڈو میٹنگ ناکام،ماہرین کی ٹیم روانہ کرنے مرکز کا مشورہ تملناڈو نے ٹھکرادیا، سب کی نظر آج سپریم کورٹ کی سماعت پر

کاویری مسئلہ پر کرناٹک ۔تملناڈو میٹنگ ناکام،ماہرین کی ٹیم روانہ کرنے مرکز کا مشورہ تملناڈو نے ٹھکرادیا، سب کی نظر آج سپریم کورٹ کی سماعت پر

Fri, 30 Sep 2016 15:09:04    S.O. News Service

بنگلورو29؍ستمبر(ایس او نیوز) کاویری آبی تنازعہ کو سلجھانے کیلئے آج مرکزی حکومت کی مداخلت کے ساتھ کرناٹک اور تملناڈو کے درمیان طلب کی گئی میٹنگ ناکام ہوگئی۔ مرکزی وزیر برائے آبی وسائل اوما بھارتی نے میٹنگ کے دوران مشورہ دیا کہ کاویری طاس پر دونوں ریاستوں میں آنے والے آبی ذخائر میں پانی کی سطح کا معائنہ کرنے کیلئے ایک مرکزی ٹیم روانہ کی جائے گی، جس کے بعد طے کیاجائے گا کہ پانی کی تقسیم کا فارمولہ کیا ہوگا۔تاہم تملناڈو نے مرکزی وزیر کے اس مشورہ کو ماننے سے صاف انکار کردیا اور کاویری کے پانی پر اپنی حصہ داری کے دعویٰ پر قائم رہا۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کاویری تنازعہ کے سلسلے میں تملناڈو کے موقف کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت سے کرناٹک نے ہی گذارش کی تھی کہ حقائق کا پتہ لگانے کیلئے ماہرین کی ٹیم دونوں ریاستوں کو روانہ کی جائے، لیکن تملناڈو نے اس مشورہ پر منفی رویہ ظاہر کیا ہے اور اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا ہے۔سدرامیا نے کہاکہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ہر بار عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق تملناڈو کو پانی مہیا کرایا گیا ، لیکن اب کرناٹک پانی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ فیصلہ وہ بنگلور پہنچ کر کریں گے۔ اوما بھارتی کے ساتھ میٹنگ کے بعد دہلی میں ایک اخبار ی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کاویری تنازعہ کے سلسلے میں مرکز نے مداخلت کی اور دونوں ریاستوں کے درمیان میٹنگ کے بعد یہ اچھی رائے پیش کی کہ ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم دونوں ریاستوں کے آبی ذخائر کا جائزہ لے گی، لیکن تملناڈو نے مرکز کے اس مشورہ کو ماننے سے انکار کردیا۔ اوما بھارتی نے اس موقع پر کہاکہ میٹنگ میں دونوں ریاستوں کی جو بھی رائے تھی مرکز نے وہ معلوم کی ہے ، اڈوکیٹ جنرل کے ذریعہ کل سپریم کورٹ کو اس رائے سے واقف کرایا جائے گا۔ اوما بھارتی کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ریاستوں کے درمیان میٹنگ ناکام ہوگئی۔ اوما بھارتی نے بتایاکہ تملناڈو کو بارہا اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ دونوں ریاستوں کے آبی ذخائر کا معائنہ کرنے کیلئے ماہرین کی ٹیم روانہ کی جائے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے میٹنگ میں واضح کیا کہ فی الوقت کرناٹک میں پینے کے پانی کی قلت بھی شدید ترین ہے، ان حالات میں تملناڈو کو کاشتکاری کیلئے پانی فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ تملناڈوکے وزیر پلنی سوامی نے میٹنگ میں الزام لگایا کہ حکومت کرناٹک غیر قانونی طاقتوں کی پشت پناہی کررہی ہے، کرناٹک میں تمل باشندوں کے جان ومال کو نقصان پہنچایا جارہاہے۔ کرناٹک نے کاویری کا پانی تملناڈو کو فراہم کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی پامالی کی ہے۔اسی لئے تملناڈو کی طرف سے زو ر دیا جائے گا کہ فوری طور پر کاویری نگرانی بورڈ قائم کیاجائے ۔اس موقع پر تملناڈو کے چیف سکریٹری رام موہن راؤ نے میٹنگ میں وزیر اعلیٰ جئے للیتا کی تقریر پڑھی ،جس میں یہ نکات شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے ساتھ میٹنگ میں وزیر آبی وسائل ایم بی پاٹل، وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا، چیف سکریٹری اروند جادھو ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری ایل کے عتیق ، محکمۂ آبپاشی کے سکریٹری راکیش سنگھ اور دیگر نے حصہ لیا۔ جبکہ تملناڈو کے وفد میں پلنی سوامی، چیف سکریٹری رام موہن راؤ موجود تھے۔ اوما بھارتی کے علاوہ مرکزی وزیر مملکت برائے آبی وسائل سنجیو کمار بلیان بھی موجود تھے۔


Share: