ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری مسئلہ پر کرناٹک کو ایک اور جھٹکا،27؍ ستمبر تک چھ ہزار کیوسک پانی تملناڈو کو فراہم کرنے سپریم کورٹ کاحکم

کاویری مسئلہ پر کرناٹک کو ایک اور جھٹکا،27؍ ستمبر تک چھ ہزار کیوسک پانی تملناڈو کو فراہم کرنے سپریم کورٹ کاحکم

Wed, 21 Sep 2016 12:03:00    S.O. News Service

عدالت کی ناانصافی کے خلاف ایک بار پھر احتجاجات کی تازہ لہر،آج کابینہ اجلاس میں اہم فیصلہ متوقع
بنگلورو20؍ستمبر(ایس او نیوز) خدشات کے عین مطابق سپریم کورٹ نے آج دوبارہ کرناٹک کے ساتھ کھلی ناانصافی کرتے ہوئے کرناٹک کو ہدایت جاری کی کہ دریائے کاویری سے تملناڈو کو 27؍ ستمبر تک روزانہ چھ ہزار کیوسک پانی جاری کرے۔ آج سپریم کورٹ میں تملناڈو کی طرف سے دائر نظر ثانی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس ادے للت اور جسٹس دیپک مشراپر مشتمل ڈویژنل بنچ نے کرناٹک اور تملناڈو کی طرف سے وکیلوں کی پرزور بحث کو سنا اور آخر میں یہ حکم صادر کیا کہ کرناٹک تملناڈو کو روزانہ 6؍ہزار کیوسک کے حساب سے پانی 27؍ ستمبر تک فراہم کرے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 28 ستمبر کی دوپہر طے کی ہے۔ دوران بحث کرناٹک کی طرف سے پیروی کرنے والے سینئر وکیل فالی ایس ناریمن نے عدالت کو باور کروایا کہ کاویری میں پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے، ایسے میں تملناڈو کو آبپاشی کا پانی فراہم کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ ان کے جواب میں تملناڈو کے وکیلوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ تملناڈو کی طرف سے جو تقاضہ کیا جارہاہے وہ قطعاً زیادتی نہیں ہے، بلکہ کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل نے اپنے قطعی فیصلے میں تملناڈو کیلئے جتنی پانی کی مقدار طے کی تھی، تملناڈو کی طرف سے اتنے ہی پانی کا تقاضہ کیا جارہاہے۔ کرناٹک سے زیادہ پانی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تملناڈو کو جتنا حصہ ستمبر کے دوران ملنا چاہئے تھا ،اتنا ہی دیا جائے۔ اس مرحلے میں ناریمن نے پرزور بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل کی طرف سے ماہانہ پانی فراہم کرنے کی کوئی مقدار متعین نہیں کی گئی ہے، اور ساتھ ہی پچھلے دو سال سے کرناٹک کے کاویری طاس میں بارش کی قلت کے سبب صورتحال بہت خراب ہے، اسی لئے کرناٹک تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کے موقف میں بالکل نہیں ہے۔ ایسے مرحلے میں جبکہ کاویری طاس میں آنے والے علاقوں ، بنگلور ، منڈیا اور میسور کے عوام کیلئے پینے کا پانی میسر نہیں ہے، تملناڈو کو فصلوں کیلئے پانی فراہم کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے ان تمام حقائق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے تملناڈو کے استدلال کو منظوری دی اور کرناٹک کو ہدایت جاری کی کہ تملناڈو کو 27 ستمبر تک پانی کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے ۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ حکم بھی صادر کیا کہ چار ہفتوں کے اندر کاویری نگرانی کمیٹی کی از سر نو تشکیل کی جائے ،تاکہ وہ دونوں ریاستوں میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لے اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کرسکے۔ عدالت کی سماعت کے بعد فالی ایس ناریمن نے عدالت کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیا اور کہاکہ کرناٹک میں پانی کی قلت کے بارے میں حقائق رکھے جانے کے باوجود عدالت نے انہیں تسلیم نہیں کیا اور تملناڈو کے حق میں یکطرفہ فیصلہ سنایا ہے جوکہ افسوسناک ہے، ریاستی چیف سکریٹری اروند جادھو اور وزیر آبی وسائل ایم بی پاٹل جو اس سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں موجود تھے نے عدالت کے فیصلے پرشدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی عوام کیلئے جب پینے کا پانی ہی میسر نہیں ہے اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر عدالت نے جو فیصلہ سنایا ہے وہ سراسر ایک ریاست کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مسٹر ایم بی پاٹل نے کہاکہ دریائے کاویری میں پانی ہوتو تملناڈو کو دیا جائے۔ جب کاویری کے آبی ذخائر خالی ہوچکے ہیں تو پانی فراہم کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا، اس کیلئے چاہے عدالت کا فیصلہ ہو یا کچھ اور ، انہوں نے کہا کہ ریاست کی طرف سے وکیلوں نے عدالت کو حقائق سے باور کرانے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ دوران سماعت طرفین میں زور دار مکالمہ بازی بھی ہوئی اور کرناٹک کی طرف سے ناریمن کی قیادت والی ٹیم نے عدالت کے روبرو ریاست کی صورتحال تفصیل کے ساتھ رکھی اور بتایا کہ ریاست کے بیشتر علاقے خشک سالی سے بری طرح متاثر ہیں اسی لئے تملناڈوکو پانی کی فراہمی پر زور نہ دیا جائے۔تاہم عدالت نے تملناڈو کے اس استدلال کوتسلیم کیا کہ ٹریبونل نے جو مقدار طے کی ہے ،صرف وہی مقدار کا پانی تملناڈو کو دے دیا جائے۔ اس دوران عدالت کی طرف سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کا فیصلہ صادر ہوتے ہی کاویری طاس کے علاقوں منڈیا ، میسور اور بنگلور میں احتجاجات کی تازہ لہر چل پڑی ہے۔منڈیا میں کسانوں اور میسور اور بنگلور میں کنڑا نواز تنظیموں نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو کرناٹک دشمن قرار دیتے ہوئے اپنا ا حتجاج بحال کردیا اور ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ کسی بھی حال میں تملناڈو کو پانی فراہم نہ کیا جائے۔ 

آج ہنگامی کابینہ اجلاس:اس دوران کاویری مسئلہ پر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے ساتھ ہی ریاست میں پیدا شدہ صورتحال اور دریائے کاویری میں پانی کی قلت کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی طرف سے اس فیصلے پر عمل نہ کرنے کا موقف اپنانے کے متعلق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کل کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ میٹنگ میں ریاستی حکومت کی طرف سے واضح کردیا جائے گا کہ کسی بھی حال میں کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی حکم عدو لی کے جو نتائج مرتب ہوں گے ریاستی حکومت اس کا سامنا کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کردے گی۔ 

وزیر داخلہ کا بیان:وزیر داخلہ اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کاویری مسئلے پر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کو افسوسناک قرار دیا اور کہاکہ عدالت سے انصاف کی توقع تھی، لیکن اس بار بھی کرناٹک کے ہاتھ ناانصافی ہی لگی ہے۔انہوں نے کہاکہ جب دریائے کاویری میں پینے کا پانی ہی میسر نہیں ہے تو تملناڈو کو فصلوں کو پانی فراہم کرنے کی ہدایت دینا دانشمندی نہیں ہے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ ریاستی حکومت اس معاملے میں اپنی قانونی جنگ کو اور شدت کے ساتھ آگے بڑھائے گی۔ تملناڈو کو کسی بھی حال میں پانی کی فراہمی ناممکن قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اس ضمن میں ریاستی کابینہ کے اجلاس میں حکومت اپنا موقف تفصیل کے ساتھ واضح کرے گی، اور ساتھ ہی کل کی کابینہ میٹنگ میں کچھ سخت فیصلے لئے جانے کی توقع ہے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ کاویری مسئلے پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے ریاستی عوام کے جذبات ضرور مجروح ہوئے ہیں لیکن عدالت کے اس فیصلے کی وجہ سے عوام امن وامان میں خلل پڑنے نہ دیں۔احتجاجیوں کی طرف سے جمہوری طریقے سے مظاہرے کئے جائیں۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی حماقت سے گریز کریں۔ 

منڈیا کے رکن پارلیمان مستعفی:کاویری طاس میں مرکزی حیثیت کے حامل منڈیا کے رکن پارلیمان اور جنتادل (ایس) لیڈر سی ایس پٹ راجو نے اپنی لوک سبھا رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پٹ راجو نے کہاکہ کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنا ناممکن ہے، اس کے باوجود بھی عدالت عظمیٰ نے جو فیصلہ سنایا ہے وہ یکطرفہ ہے اور اس سے انہیں کافی دکھ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ عدالت کے فیصلے پر عمل کرنا اب کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ عدالت سے جو انانصافی ہوئی ہے اس پر احتجاج کرنے کیلئے انہوں نے اپنی منڈیا حلقے کی لوک سبھارکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے دو دن میں وہ اپنا استعفیٰ لوک سبھا اسپیکر کو سونپ دیں گے اور منڈیا ضلع کے عوام کے ساتھ احتجاجی مہم میں شامل ہوجائیں گے۔ اس دوران منڈیا ضلع ہیتا رکشنا سمیتی کے صدر اور سابق رکن پارلیمان جی مادے گوڈا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ پانی کی شدید قلت سے بدحال کسانوں اور عوام پر توجہ دئے بغیر عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ صادر کیا ہے جو قطعاً منظور نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سدرامیا سے مطالبہ کیا کہ عدالت کے اس فیصلے کو ہرگز منظور نہ کریں۔ بھلے ہی اس کیلئے انہیں اقتدار چھوڑنا پڑے۔


احتجاج کی تازہ لہر:آج شام جیسے ہی کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کا فیصلہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے صادر کیا گیا، کاویری طاس کے علاقوں بنگلور ،میسور اور منڈیا میں احتجاجات کی ایک نئی لہر چل پڑی۔ منڈیا میں ضلع ہیتا رکشنا سمیتی کی قیادت میں عوام اور کسانوں نے بنگلور میسور قومی شاہراہ نمبر 75 بند کردی۔ پولیس کی طرف سے یہاں رکی ہوئی ہزاروں گاڑیوں کو جانے کا موقع فراہم کرنے احتجاجیوں سے کی گئی گذارش کو انہوں نے یکسر نظر انداز کردیا اور احتجاج کی لہر تیزی کے ساتھ شدت اختیار کرتی گئی۔ بنگلور میں بھی کنڑا نواز تنظیموں کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے شروع ہوچکے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس کا معقول بندوبست کیاگیا ہے۔ میسور میں بھی کاویری مسئلہ کو لے کر عوام اور کسانوں کے شدید احتجاجات کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ 

ماہرین قانون سے مشورہ:کاویری مسئلے پر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے سے ریاستی حکومت کو جس بحران کا سامنا ہے اسے دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے ماہرین قانون سے مشورہ کیا ۔ ان ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کرناٹک کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک تازہ اسپیشل لیو پیٹیشن درج کی جائے اور کل ہی اس سلسلے میں عدالت کے فیصلے پرزور دیا جائے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ سے رجوع ہونے کی تیاری کی جارہی ہے۔ 


Share: