بنگلورو16؍ستمبر(ایس او نیوز) 12؍ ستمبر کو شہر میں کاویری تشدد کے سلسلے میں پولیس کمشنر نے 9؍ پولیس تھانوں کے انسپکٹروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ پرتشدد واقعات جب شروع ہوئے تو ان کو قابو میں کرنے میں مبینہ لاپرواہی اور ان کے مشتبہ رویہ کو دیکھتے ہوئے کمشنر نے ان انسپکٹروں کے خلاف کارروائی کرنے محکمہ کو سفارش کی ہے۔ شہر کے 16 پولیس تھانوں کی حدود میں 12؍ ستمبر کو پرتشدد واقعات پیش آئے۔جابجا آتش زنی عام رہی ، لیکن پولیس کی طرف سے فوری طور پر آتش زنی کو روکنے کیلئے قدم نہیں اٹھائے گئے۔آخر کار جب پولیس نے مجبوراً لگیرے میں فائرنگ کی تو اس فائرنگ میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی، جبکہ پولیس کے لاٹھی چارج کے خوف سے ایک نوجوان عمارت سے گر کر فوت ہوگیا۔ حالانکہ کاویری طاس میں آنے والے علاقوں ، میسور ، منڈیا، ہاسن وغیرہ میں بھی پرتشدد مظاہرے ہوئے لیکن وہاں حالات کو کافی تیزی سے قابو میں کرلیا گیا۔ پولیس نے 12؍ ستمبر کے پرتشدد واقعات کی جو ویڈیو گرافی کرائی ہے اس کی بنیاد پر گرفتاری کیلئے 1800 افراد کی نشاندہی کی جاچکی ہے، ان میں سے 550 کو گرفتار کرکے بلاضمانت دفعات کے تحت جیل بھیجا جاچکا ہے۔ پولیس نے جو ویڈیوز ریکارڈ کئے ہیں ان کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشیل میڈیا کے ویڈیوز کا بھی کمشنر نے جائزہ لیا اور ان کی بناء پر کارروائی میں کوتاہی کرنے والے افسران کی نشاندہی ہوئی ہے۔اس روز ہیگن ہلی میں 500 سے زائد لوگوں پر مشتمل ہجوم نے جب پولیس کی ہوئسلا گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش کی تو اس وقت پولیس کے ضوابط کے مطابق ہجوم پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیاجانا چاہئے تھا، ہجوم کو منتشر کرنے کے مقصد سے ہی پولیس نے ریاست بھر میں 16؍ واٹر جیٹ گاڑیاں خرید رکھی ہیں ، جن میں سے 8 بنگلور میں ہیں۔ آتش زنی کے پیش نظر ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے بھی ان واٹر جیٹ گاڑیوں کا استعمال کیا جانا چاہئے تھا، لیکن ایسا کرنے کی بجائے راست طور پر فائرنگ کی گئی ، اس سے کئی شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہیں۔ ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے منڈیا، ہاسن اور میسور میں پولیس نے آنسو گیس استعمال کیا ، لیکن ہیگن ہلی میں راست طور پر فائرنگ کا حکم کس نے دیا ، کمشنر اس کی جانچ میں لگے ہوئے ہیں۔