چینائی 16/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) کاویری آبی تنازعہ کے پیش نظرتمل ناڈو میں بلائےگئے یکروزہ احتجاجی بند میں ملاجلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ اس دوران کاویری آبی تنازعہ کے نام پر کل جمعرات کو جس نوجوان نے خودسوزی کی کوشش کی تھی، آج زخموں کی تاب نہ لاکروہ چل بسا۔
اس دوران بہت سے کسانوں اور تاجروں کی تنظیموں کی طرف سےاعلان شدہ بند کی حمایت کر رہے ڈی ایم کے پارٹی کے سینئر لیڈر ایم کے اسٹالن اور کنی موزی سمیت ایم ڈی ایم کے لیڈر وائیکو کو عدالتی تحویل میںلیا گیا۔ خیال رہے کہ کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان کاویری دریا کے پانی کو لے کر طویل عرصے سے تنازعہ چل رہا ہے.
ایم کے اسٹالن کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ٹرینوں کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے، وہیں ان کی بہن کنی موزی کو چنئی میں روڈ بلاک کرنے کے دوران گرفتار کیا گیا. انہیں ان کے حامیوں سمیت بسوں میں بٹھا کر دوسری جگہ لے جایا گیا.
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق کوئمبتور، تری پور اور نیلگریس اضلاع میں زیادہ تر کاروباری ادارے بند رہے اور بند کا زیادہ اثر دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قریب 20 ہزار چھوٹی اور درمیانی صنعت مکمل طور پر بند رہیں، جبکہ 30 ہزارگارمینٹ فیکٹری والا ٹیکسٹائل مرکزتری پور میں بھی بند مکمل طور پر کامیاب رہا جہاں سبھی فیکٹریاں اور کاروباری اداروں نے بند کے لئے اپنی حمایت دی۔
البتہ ریاست میں موجود سینٹرل گورنمینٹ کے دفاتر کھلے تھے، ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں اور ٹروین سروس معمول کے مطابق جاری تھیں۔ مگرعام طور پرصبح ہوتے ہی کھل جانے والی گروسری کی مقامی دکانیں احتجاج کے پیش نظر بند رہیں.اسی طرح آٹو، ٹیکسی اور تجارتی سامان لے جانے والی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں
بند کا اعلان کرنے والوں نے کہا تھا کہ 'سڑک اور ریل روکو' سمیت کئی احتجاج ہوں گے. اس کے چلتے قانون اور نظام کو برقرار رکھنے کے لئے ریاست بھر میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ بند کےدوران سخت نگرانی کی جا رہی ہے اورامن و امان کو بگاڑنے، یا سڑک اور ریل کی نقل و حمل میں کسی طرح کی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے ہرممکن اقدامات کئے گئے ہیں۔
ریاست کے لئے کاویری کے پانی کا مطالبہ کرنے اور کرناٹک میں تمل لوگوں کو نشانہ بناکر کی گئی تشدد کی مخالفت میں بند کا اعلان کیا گیا تھا. حکمران انا ڈی ایم کے، اس کے شراکت داروں اور اس سے وابستہ ورکرز ایسوسی ایشن کے سوا ڈی ایم، تمل ناڈو کانگریس، ڈي ایم ڈی کے، ایم ڈی ایم، بائیں بازو اور پی ایم کے سمیت دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں نے بند کی حمایت کی۔
بند کو دیکھتے ہوئے تمل ناڈو میں مسلح ریزرو فورسز سمیت ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اور چنئی میں 15000 پولیس اہلکار ڈیوٹی پر ہیں. کرناٹک سے منسلک کاروباری اداروں، اسکولوں، اداروں اور كرشنا گری ضلع سمیت جن علاقوں میں کنڑا بولنے والے لوگ رہتے ہیں، وہاں سیکورٹی مہیا کرائی گئی ہے۔