بنگلور / منڈیا / میسور، 06 ستمبر (یو این آئی/ایس او نیوز) کاویری ندی کا پانی تمل ناڈو کے لیے چھوڑے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت میں کرناٹک کے منڈیا ضلع میں آج منعقدہ ہڑتال کا وسیع اثر دیکھا جا رہا ہے۔اس ہڑتال کا اعلان منڈیا ضلع ریّت ھِتا رکشنا کمیٹی (ایم زیڈ آر ایچ ایس) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت میں کیا ہے جس میں عدالت نے اگلے 10 دنوں میں کرناٹک سے کاویری ندی کے لئے 15 ہزار کیوسک پانی تمل ناڈو کے لئے چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔اس ہڑتال کی وجہ سے منڈیا ضلع میں معمولات زندگی بری طرح متاثر رہے۔بنگلور اور میسور کے درمیان سڑک کو کسانوں نے بند کر دیا جس سے گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر رہی۔ لوگ سڑکوں کے بیچوں بیچ کھانا بنانے لگے اور ٹائر جلائے۔ مظاہرین نے مختلف جگہوں پر وزیر اعلی سدّا رمیا اور اداکار و سیاستداں اور سابق وزیر امبریش سمیت تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے جے للتا کے پتلے نذر آتش کئے۔ مظاہرین کے ساتھ ہمدردی کے طور پر دکانیں، تجارتی ادارے وغیرہ بند رکھے گئے۔ ہوٹل وغیرہ بند رہے اور سنیما ہال کے سارے شو منسوخ کر دیے گئے۔ حکام نے احتیاط کے طور پر اسکولوں، کالجوں میں چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے، ضلع کے سرکاری دفاتر میں ملازمین کی موجودگی نہ ہونے کے برابر رہی۔دریں اثنا، مسٹر سدّا رمیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی اور تکنیکی ماہرین کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں کاویری مسائل کو لے کر ریاست کی نمائندگی کر رہے سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ پھلی نریمن کی صدارت میں تکنیکی ٹیموں اور سینئر وزراء کے علاوہ اعلی افسر حصہ لے رہے ہیں۔منڈیا ضلع میں کنڑ حامی تنظیم کے کارکنوں کے محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) آفس سمیت دیگر سرکاری دفاتر میں گھس کر کھڑکیوں، گملوں کو نقصان پہنچانے کے واقعہ کے بعد سے کشیدگی پھیلی ہے۔تاہم پولیس نے اس دوران مداخلت کی اور مظاہرین کو منتشر کر دیا۔پولیس نے بداڈی، رام نگرم اور چنناپٹنا میں نوٹس بورڈ لگا کر گاڑی ڈرائیوروں کو بنگلور-میسور ہائی وے پر نہ جانے کی ہدایت دی ہے۔ اس درمیان، مانڈیا پولیس نے سرکاری دفاتر میں گھس کر لوٹ مار کرنے والے کئی مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔ کرناٹک ریاست ریّت یونین (کے آر آر ایس) اور میکیداتو ہوراتا کمیٹی کے اراکین شاہراہ پر مظاہرہ کرنے لگے۔سینکڑوں کسانوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں کی کے آر ایس آبی ذخائر کا محاصرہ کئے جانے کی کوشش کی وجہ سے کشیدگی کا ماحول ہے۔ یہاں پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپں بھی ہوئیں جس میں سینکڑوں مظاہرین کو احتیاطاً حراست میں لے لیا گیا۔