ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: سرکاری دفتروں اور چیک پوسٹ پر لگائے گئے سی سی کیمرہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے افسران

کاروار: سرکاری دفتروں اور چیک پوسٹ پر لگائے گئے سی سی کیمرہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے افسران

Fri, 07 Apr 2017 19:24:55    S.O. News Service

کاروار7؍اپریل (ایس او نیوز) ضلع کے اہم مقامات اور تعلقہ کے اہم سرکاری دفاتر میں رشوت خوری اور غیر قانونی سرگرمیوں پر قابوپانے کے لئے کلوز سرکیوٹ کیمرے لگائے گئے ہیں۔ اور حکومت کی طرف سے عوام کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اب سرکاری کام کاج عوام کی سہولت اور مفاد کے مطابق ہوگا۔ مگریہ خیال بے وقوفوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہوگیا ہے ، اس لئے کہ بہت سے مقامات پر افسران نے اپنے دفتروں میں موجود کیمروں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کا راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ یعنی ان کیمروں سے چھیڑ چھاڑ کرکے اسے کام کرنے کے قابل نہیں رکھا ہے۔ اور پورے اطمینان کے ساتھ اپنی جیب بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اس میں ضلع کے پولیس، جنگلات، آبکاری، مائنز اور ایسے بہت سارے محکمہ جات اور ہائی وے ناکوں پر جو سی سی کیمرے لگائے گئے تھے ان میں سے اکثر کیمرے اب" بگڑجانے"سے ناکارہ ہو گئے ہیں۔

ہائی ویز کے چیک پوسٹس پر لگے ہوئے کیمرے ناکارہ ہوجانے کے بعد گاڑیوں کی آمد روفت اور غیر قانونی سرگرمیوں کی جانکاری ریکارڈ ہو نہیں پاتی۔ جانکاروں کا خیال ہے کہ اپنی غیر قانونی سرگرمیوں اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے ان چوکیوں پر موجود رہنے والے اہلکار ہی کیمروں کو بگاڑ دیتے ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق کاروار کے سرحدی علاقے ماجالی میں محکمہ پولیس، آبکاری، مائنز اور دیگر محکمہ جات کے کیمرے کام نہیں کررہے ہیں۔یہی حال بالے گوڈی، ہیرے گُتّی پولیس اسٹیشن، انکولہ ، کمٹہ سرسی روڈ کے کتگال، ہوناور کے ہاڈین بال،گیروسوپا،بھٹکل نیشنل ہائی وے کے ناکوں سمیت دیگر راستوں پر لگائے گئے کیمرے ، جوئیڈا کے رام نگراور دیگر کئی مقامات کا ہے جہاں پرلگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرے بند پڑے ہوئے ہیں اور انہیں درست نہیں کیا جارہا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی بگڑی ہوئی اس حالت کی وجہ سے گاڑیوں کی غیر قانونی آمد ورفت کے علاوہ ضلع شمالی کینرا اورکنداپور سے ہبلی کے لئے ریت کی لاریاں لے جانابالکل آسان ہوگیا ہے۔غیر قانونی طور پر لکڑیاں اور شراب کی سپلائی کے علاوہ پارک کی ہوئی لاریوں کی چوری اور ان کے پُرزے نکالنا بھی آسان اور محفوظ ہوجاتا ہے۔جانکاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح چیک پوسٹ پر کیمروں کو ناکارہ بنا کر کرپشن اور لوٹ کا کاروبار جاری رکھنے والے اہلکار چونکہ اپنے اعلیٰ افسران کو بھی باقاعدہ رقم پہنچاتے ہیں ، اس لئے قانون کے ساتھ آنکھ مچولی کا کام دھڑلّے سے چل رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان چیک پوسٹ پر تعیناتی کے لئے پولیس اہلکار وں کی طرف سے اپنے اعلیٰ افسران کی چاپلوسی کی جاتی ہے یا پھر سیاسی دباؤ تک بنایا جاتا ہے کیونکہ کم وقت میںآسانی سے جیب بھرنے کا یہی ایک راستہ دکھائی دیتا ہے۔

لاریوں کے پارٹس چرانے والوں کاجال: یہ سی سی کیمرے ناکارہ ہوجانے کے بعدانکولہ سے لاری چھین کر لے جانے کا تیسرا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سونی گیس ایجنسی والوں کے خالی سلینڈروں سے بھرا ہوا ٹرک انکولہ میں پارک کی ہوئی جگہ سے رات کے وقت الیکٹرانک تالہ توڑ کر چرالیا گیااور ہٹّی کیری نامی مقام پر لانے کے بعداس کے ٹائر اور ڈسکس نکال لیے گئے ہیں۔ٹرک کے ٹائر نکالنے کے لئے پتھروں پر پورا بھرا ہوا ٹرک کھڑاکرنے اورڈسک سمیت ٹائر نکالنے کا کام جس مہارت اور اطمینان سے کیا گیا ہے وہ تعجب خیز ہے۔تقریباً دو مہینے قبل ہلیال کے علاقے میں بھی اسی طرح ٹرک اغوا کرکے ڈسک سمیت ٹائر نکالنے کا واقعہ پیش آچکا ہے۔ اس سے شبہ کیا جارہا ہے کہ ٹرکوں کو چرانے اور ان کے پارٹس نکال کر فروخت کرنے والے لٹیروں کا کوئی جال ہے جو اس علاقے میں سرگرم ہوگیا ہے۔عوام کا کہناتھا کہ ہائی وے چیک پوسٹ پر لگائے گئے سی سی کیمرے اگر درست ہوتے تو اس قسم کی واردات کے ذمہ دار مجرموں کو پکڑنا کوئی مشکل بات نہیں ہوتی ۔ 


Share: