کاروار 30 / اگست (ایس او نیوز) کاروار کے کدمبا بحری اڈے سے متعلق اہم معلومات دشمن ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے لئے افشا کرنے کے الزام میں بحری اڈے کے تین ملازمین کی گرفتار ی کے بعد ملک کی سلامتی اور تحفظ سے تعلق رکھنے والی تمام خفیہ ایجنسیاں اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لے رہی ہیں اور اس کے پیچھے ایک شک یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی حمایت والا ایک ہنی ٹریپنگ جال گوا اور کاروار کے اطراف میں سرگرم ہے جو حساس علاقوں اور مراکز کی معلومات حاصل کرنے کے لئے وہاں کام کر رہے ملازمین کو پھانسنے کا کام کر رہا ہے ۔
خیال رہے کہ گزشتہ تین مہینے قبل گوا کے شپ یارڈ سے متعلقہ اہم معلومات افشا کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اے ٹی ایس نے شپ یارڈ کے ایک ریٹائرڈ ملازم رام سنگھ کو گورکھپور سے گرفتار کیا تھا ۔ ملزم رام سنگھ کے بارے میں ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا تھا کہ وہ 'کیرتی' نامی فیس بک پیج کے ذریعے 'ہنی ٹریپنگ' کا شکار ہوا تھا ۔ اسی وجہ سے اب کاروار کا معاملہ سامنے آنے پر تمام خفیہ ایجنسیوں کے کان کھڑے ہوگئے ہیں اور یہ ایجنسیاں کاروار بحری اڈے کی حساس معلومات دشمنوں کے حوالے کرنے والے ملزموں کے تعلق سے بھی اس بات کی تحقیق کر رہی ہیں کہ کہیں اس معاملے کے ملزمین کو بھی ہنی ٹریپنگ کا شکار تو نہیں بنایا گیا!
این آئی اے ذرائع کے مطابق بحری اڈوں سے متعلق اہم اور حساس قسم کی معلومات افشاء ہونے کے معاملے کی جانچ کے لئے این آئی اے نے بدھ کے دن ملک بھر میں بیک وقت سات ریاستوں کے 16 مقامات پر چھاپے مارے تھے جہاں سے اہم دستاویزات اور ثبوت ایجنسی کے ہاتھ لگے ہیں اور جملہ 22 موبائل فون ضبط کیے گئے ہیں ۔
اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر کاروار میں بھی چھاپہ ماری ہوئی اور یہاں نیول بیس میں ٹھیکے کی بنیاد پر کام کرنے والے تین ملازمین کو تفتیش کے لئے تحویل میں لیا گیا تھا ۔ جبکہ کوچی میں واقع آئی این ایس وکرانت سے متعلقہ معلومات افشاء کرنے کے معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ۔
کاروار میں تحویل میں لیے گئے افراد کی ابتدائی جانچ سے این آئی اے کے تفتیش کاروں کو پتہ چلا ہے کہ ان کے بینک کھاتوں میں مختلف بینک کھاتوں سے رقم جمع ہوتی رہی ہے ۔ ان لوگوں نے بہت ہی حساس قسم کے فوٹوز دوسروں کو روانہ کیے ہیں ۔ اس کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہونے کی بات کہی جا رہی ہے ۔
آئی این ایس کدمبا نیول بیس ایشیاء کا سب سے بڑا نیول بیس ہونے کی وجہ سے شبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ اس علاقے میں سرگرم ہو سکتے ہیں اور کاروار سے انکولہ تک کے علاقے میں خوبصورت لڑکیوں کی طرف سے فیس بک فرینڈ ریکویسٹ بھیج کر خاص لوگوں کو اپنے جال میں پھانسنے والا جال کام کر رہا ہوگا ۔
کاروار نیول بیس جاسوسی معاملے میں ایجنسیوں کے نشانے پر آئے ہوئے تین ملزمین میں سے ایک شخص گوا میں برسرِ ملازمت تھا ۔ رام سنگھ بھی اس سے قبل ایک نجی کمپنی کے توسط سے نیول بیس میں کام کر چکا ہے ۔ اس لئے یہ شبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ رام سنگھ نے ہی ان لوگوں سے رابطہ قائم کیا ہوگا ۔
اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وشاکھا پٹنم میں غیر ملک کے لئے جاسوسی کے الزام میں تفتیش کے دائرے میں آنے والے دیپک نامی شخص کے گروپ میں ان تمام لوگوں کے نام اور تفصیلات موجود ہیں ۔ لیکن کاروار معاملے میں جن تین افراد سے این آئی اے نے تفتیش شروع کی ہے وہ کسی اہم عہدے پر فائز نہیں تھے ۔ نیول بیس کے اندر اینڈرائڈ فون لے جانا ممکن نہیں ہے ۔ یہ ہائی سیکیوریٹی ژون ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود وہاں سے معلومات حاصل کرکے افشا کرنے میں کسی با اثر اور اہم شخصیت کا ہاتھ ہونے کے امکانات بھی نظر آ رہے ہیں ۔
نیول بیس میں کام کرنے والے ملازمین اور اہلکاروں کے بارے میں پولیس ویریفکیشن لازمی ہوتا ہے ۔ مقامی افراد کے لئے کاروار دیہی پولیس اسٹیشن سے وریفکیشن کے بعد سرٹفکیٹ دیا جاتا ہے ، مگر نیول بیس میں ہزاروں ملازمین شمالی ہند سے آتے ہیں جو اپنے اپنے مقامات سے پولیس ویریفکیشن سرٹفکیٹ لاتے ہیں ۔ اس وجہ سے ضلع پولیس کو نیول بیس میں کام کرنے والے تمام ملازمین کے تعلق سے پوری جانکاری نہیں رہتی ہے ۔
فی الحال جن تین لوگوں سے این آئی اے نے تفتیش کی تھی ان کے بارے میں ضلع اتر کنڑا کے ایڈیشنل ایس پی جئے کمار نے بتایا کہ ان تینوں کو مزید تفتیش کے لئے وشاکھا پٹنم آنے کے لئے این آئی اے نے نوٹس سونپی ہے۔ ضلع پولیس کی طرف سے این آئی اے کو پوری طرح تعاون دیا جا رہا ہے ۔