بنگلورو:4/اگست(ایس او نیوز) ریاستی وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار کے گھر ، دفتر اور ان کے اقرباء کے ٹھکانوں پر محکمۂ انکم ٹیکس کا چھاپہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے، آج تیسرے دن بھی ان کے ہاں تلاشی مہم جاری رہی ، مختلف حلقوں میں دعوے کئے جارہے ہیں کہ ان کے پاس سے بہت ساری بے نامی جائیدادیں ، بیرون ممالک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے دستاویزات وغیرہ برآمد کئے گئے ۔ پچھلے 72 گھنٹوں سے محکمۂ انکم ٹیکس کے افسران پر مشتمل الگ الگ ٹیمیں ڈی کے شیوکمار کے ٹھکانوں پر تلاشی جاری رکھے ہوئے ہیں اور تفصیلات سے ہر چیز کا جائزہ لیا جارہاہے۔ کل رات اپنی کارروائی ختم کرکے نکلنے کے بعد افسران کی ٹیمیں آج صبح پھر پہنچ گئیں او ر شیوکمار سے تمام تفصیلات کے متعلق پوچھ تاچھ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران ایگل ٹن ریسارٹ میں گجرات کے اراکین اسمبلی کے ساتھ مقیم ڈی کے شیوکمار کے بھائی اور رکن پارلیمان ڈی کے سریش آج اپنے بھائی کا ساتھ دینے سدا شیونگر میں واقع ان کی رہائش گاہ پہنچے ، یہاں پر تعینات سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس کے جوانوں نے انہیں اندر داخل ہونے سے روک دیا، جس پر انہوں نے جوانوں کو آڑے ہاتھوں لیا، تاہم بعد میں انکم ٹیکس افسران نے انہیں اندر آنے کا موقع دیا۔ میسور میں ڈی کے شیوکمار کے سسرال میں بھی تلاشی تیسرے دن بھی جاری رہی۔ دہلی میں ڈی کے شیوکمار کے پی اے آننجیا کے ٹھکانے پر انکم ٹیکس افسران نے قبضہ جما رکھا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ کافی سختی کی جارہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ بنگلور کی مختلف کمپنیوں داؤنم جیولرس نامی زیورات کے شوروم، بینکوں ، سافٹ ویر کمپنیوں وغیرہ میں بھی شیوکمار کی مبینہ سرمایہ کاری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اس دوران محکمۂ انکم ٹیکس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بہت جلد اس معاملہ کی جانچ انکم ٹیکس انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے سپرد کردے گا اور جیسے ہی یہ معاملہ ای ڈی کے سپرد ہوگا ، شیوکمار کے ساتھ سختی کا معاملہ ہوسکتاہے، غالباً انہیں گرفتار کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔ اس دوران بتایاجاتا ہے کہ پچھلے تین دنوں سے محکمۂ انکم ٹیکس کی سخت پوچھ تاچھ کے سبب ڈی کے شیوکمار کی صحت میں غیر معمولی بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ شیوکمار کے نجی ڈاکٹر ،ڈاکٹر رامن راؤ کی قیادت میں تین ڈاکٹروں کی ٹیم شیوکمار کی رہائش گاہ پر موجود ہے۔ ان ڈاکٹروں نے بتایاکہ آئی ٹی افسران کی ہراسانی کے سبب ان کی صحت میں غیر معمولی بگاڑ آیا ہے۔