ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چینتامنی: ریاست کے تہذیب وزبان کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئے:کاگیتی وینکٹ رتنم

چینتامنی: ریاست کے تہذیب وزبان کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئے:کاگیتی وینکٹ رتنم

Tue, 08 Nov 2016 12:46:19    S.O. News Service

چنتامنی:8 /نومبر(محمد اسلم/ایس او نیوز) کنڑیگاؤں میں زبان کے بارے عام بیداری لانے کے علاوہ ہر ایک فرد کو کنڑا زبان کا تحفظ کرنے کیلئے باغ کے پہرے دار کی طرح زبان کا پہر دار بننا چاہئے کرناٹکا کے نوجوان طبقہ کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں زبان کی ترقی اور تحفظ کی ذمہ داری سونپی جانی چاہئے یہ بات کنڑا ساہتیہ ویدیکے کے تعلقہ صدر کاگیتی وی۔وینکٹ رتنم نے کہی ۔تعلقہ مونگنہلی سرکاری ہائی اسکول کے احاطے وویکانندا میدان میں منعقدہ 61کنڑا راجیواتسوا پروگرام میں خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ متحد کرناٹک تو ہے کاویری سے لیکر گوداوری تک ہری بھری ریاست ہے مگر کنڑا زبان گھٹتی جارہی ہے اگر انگریزی کی طرح اس کو بھی سہارا دیا جائے تو پھل پھول سکتی ہے ویسے بھی یہ زبان روزی روٹی مہیا کرانے والی زبان ہے اس لئے اگر اس میں خوب محنت کی جائے تو یقیناًاس فرد کو بھی فائدہ پہنچے گا اور زبان بھی ترقی کرے گا دیگر لوگوں کو بھی اس زبان کے تعلق سے جانکاری فراہم کی جانی چاہئیے اگر کرناٹک میں ہی اس زبان کا حال خراب ہورہا ہے تو دوسری ریاستوں میں اس کی مقبولیت کا سوال ہی نہیں اُٹھتا اس لئے تمام کو ریاست کے تہذیب وزبان کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئیے ۔بعد ویمنس کالج کے لکچرر ڈاکٹر ایم این راگھو نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنڑا زبان اور کنڑیگاؤں کی زندگی حالیہ دنوں میں سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے کنڑا زبان اپنے ہی ملک میں اقلیتی زبان بنتی جارہی ہے تو کنڑیگاؤں کیلئے ریاست کی زمین بھی تنگ ہوتی جارہی ہے کنڑیگاؤں کو چاہئے کہ وہ متحد ہوکر حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک ایک ایسی ریاست ہے جہاں پر تمام زبانوں کو برابر حق حاصل ہے یہاں کی ریاستی زبان کنڑا باوجود اس کے بلاکسی شک وشبہ یہ ریاست تمام زبانوں کو اپنی گود میں لیکر چلتی ہے خصوصاََ لسانی اقلیتی طبقے کو یہاں پر دوسری ریاستوں سے زیادہ حق حاصل ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ریاست کی زبان ہی پر توجہ دیں قوم و ملک کی ترقی کیلئے اقلیتی طبقے کو اکثریتی طبقے کو ساتھ لیکر مقامی زبان پر عبور حاصل کرنا چاہئے موجود دور میں میں کنڑا کی تہذیب اور ثقافت صرف نعروں اور اشتہارات تک ہی محدود رہ گئی ہے ۔اگر کنڑا زبان کی اس بگڑتی ہوئی حالات مزید چند سالوں ت جاری رہے گی تو عین ممکن ہے کہ آنے والے دو سوسالوں میں کنڑا زبان بھی تاریخ کے گمنام صفحوں کی زینت بن جائے گی اور کنڑا کا خاتمہ ہوجائے گا۔اس موقع پرچنتامنی لائنس کلب کے صدر آر۔شیوکمار آدی نارائن گنیش کے ۔نرسمہ اپا سی آر پی جے۔ایشوراپا سمیت کئی لوگ موجود رہے۔


Share: