ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی: مرغ ملہ درگاہ کے عطیہ جات ڈبوں سے 21.82 لاکھ روپئے بر آمد؛ بچوں کی تعلیم پردھیان دینے کا تیقن

چنتامنی: مرغ ملہ درگاہ کے عطیہ جات ڈبوں سے 21.82 لاکھ روپئے بر آمد؛ بچوں کی تعلیم پردھیان دینے کا تیقن

Fri, 16 Sep 2016 15:10:06    S.O. News Service

چنتامنی:16 /ستمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)شہر سے 9 /کلومیٹر دوری پر واقع معروف حضرت اماں جان باواجانؒ درگاہ کے عطیہ جات ڈبوں میں  سے جملہ 21 /لاکھ 82 /ہزار روپئے بر آمد ہوئے ہیں۔ گذشتہ روزصبح 11 /بجے چکبالاپور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے چیرمین بی ایس رفیع اللہ اورضلع وقف آفسروں کی نگرانی اور پولیس کے سخت بندوبست میں ڈبوں کو کھولا گیا جس کی گنتی مقامی کینرا بینک عملہ اور دیگر ملازمین نے کی۔ صبح 10بجے سے شام 07بجے تک ہوئی گنتی کے بعد تمام رقم کوکینرا بینک عملہ نے وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیا۔اس موقع پر وقف مشاورتی کمیٹی کے چیرمین بی۔ایس۔رفیع اللہ نے آخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ درگاہ کے یہ ڈبے ہر دو یا تین ماہ میں ایک بار کھولے جاتے ہیں اور ان ڈبوں میں جمع شدہ رقم کو کینرا بینک کے ذریعہ وقف کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے اور اسی رقم سے درگاہ کے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ درگاہ میں عرس وغیرہ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مرغ ملہ درگاہ سے جتنی بھی رقم وقف بورڈ کو ملتی ہے اس رقم سے درگاہ کی ترقی کیلئے تعلیمی میدان میں بھی خرچ کرنے کی پوری کوشش کی جائیگی سب سے اول مرغ ملہ درگاہ کے اطراف کئی بچے علم دین سمیت دنیاوی علوم سے بھی محروم ہیں پہلی فرصت میں ان بچوں کو دینی اور دنیاوی علوم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے مسلمان بچے بچیاں علم سے کافی دور ہوتے جارہے ہیں اسلئے مرغ ملہ کے بچوں کو علم سے آراستہ کرنے کے لئے مہم چلائی جائیگی اور درگاہ کے ترقیاتی کام جو ٹھپ پڑے ہوئے ہیں اُس کو بھی فوراَ مکمل کرلیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ درگاہ کے پاس زائرین کوکسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہے لیکن چند احباب درگاہ کو بدنام کرنے کیلئے جھوٹی افواہ پھیلا رہے ہیں انہوں نے درگاہ آنے والے زائرین سے اپیل کی کہ وہ جھوٹی افواہوں پر کان نہ دھریں ۔اس موقع پر درگاہ کے سپر وائزر طیب نواز ،وقف انسپکٹر نوید پاشاہ ایڈمنسٹریٹر فوزیہ صدیقہ عارف پاشاہ گرام پنچایت رُکن الحاج انصر خان وغیرہ موجود تھے۔


Share: