ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی میں یوا شکتی تعلقہ سطح کی کمیٹی کی تشکیل

چنتامنی میں یوا شکتی تعلقہ سطح کی کمیٹی کی تشکیل

Mon, 23 Jan 2017 12:57:26    S.O. News Service

چنتامنی:23 /جنوری(محمد اسلم/ایس او نیوز)آج شہر کے پتراکرترا بھون میں یوا شکتی کے ریاستی صدر شیو پرکاش ریڈی کے زیر قیادت میں چنتامنی تعلقہ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ یواشکتی تعلقہ صدر کی حیثیت سے وائی۔جے۔منجوناتھ کو منتخب کیا گیا جبکہ نائب صدر ایس۔نوین جنرل سکریٹری آر۔نوین جوائنٹ سکریٹری این۔آمریش سکریٹری جے۔سدھاکر خزانچی کے۔نوین کمار کارکنان کے طور پر بی۔منجوناتھ وغیرہ کاانتخاب  عمل  میں آیا۔

اس موقع پر ریاستی صدر پرکاش ریڈی نے آخباری نمائندوں سے اور یوا شکتی کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 64سال قبل انگریزوں سے ملک کو آزاد کروانے کیلئے جس طرح کی جدوجہد کی گئی تھی ملک کی آزادی کے بعد بھی اسی طرح کی ایک جدوجہد لازم وملزوم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جدوجہد آزادی کیلئے تھی اور یہ جدوجہد کسانوں کے جائز حقوق کیلئے کی جارہی ہے ریاست کرناٹک میں چاہے  کوئی پارٹی اقتدار پر آئے لیکن سب کا رویہ کسانوں کے تئیں غیر منصفانہ ہی ہوتا ہے حکومتیں اقتدار حاصل کرنے سے قبل کسانوں  کو سنہرے خواب دکھلاتے ہیں جب اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو عیاری پر اتر آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چکبالاپور کولار جڑواں اضلاع میں پانی کی قلت سے پریشان عوا م نے اپنے مختلف اقسام کے احتجاجات کئے ریاست کے ہر لیڈرکی رہائش گاہوں کو پہنچ کر ضلع میں پانی کی قلت کو دور کرنے اور آبی مسائل کو حل کرنے کے لئے کہا مگر اب تک کوئی پکی کارروائی نہیں ہوئی ہے اور ضلع کے عوام کے ساتھ کھلوڑا کیا جارہا ہے۔

پرکاش ریڈی نے کہا کہ یتنا ہولے پراجکٹ سے ضلع کی زراعت کو پانی مسیر نہیں ہوگا اس کو چھوڑ دیں اس مسئلے کو لیکر سیاست دان اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں ریاستی و مرکزی حکومت دونوں اضلاع کے عوام کے ساتھ کھلوڑا کرنا چھوڑا دیں ہمارے مطالبے پر توجہ دیں کے سی ویالی اسکیم کا آلودہ پانی بھی صرف 50فیصد ملے گا اور اس کو صاف وشفاف کرنے نکلے تو اس سے کوئی فائدہ نہیں اور آدھا پانی ویسٹ ہوجائیگا اور وہ پانی سپلائی ہونے تک وہاں زراعت اور پینے کے پانی کی قلت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

انہوں نے اورکہا کہ دونوں اضلاع کے عوام کو مرکزی اور ریاستی حکومت بے قوف بنارہی ہے کیونکہ جس وقت رُکن پارلیمان کے انتخابات تھیں اُس وقت کانگریس حکومت دونوں اضلاع کے ووٹروں سے ووٹ حاصل کرنے کے خاطر یتنا ہولے پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا کر عوام کو گمراہ کیا گیا ہمیں یتنا ہولے پراجکٹ کی نہیں بلکہ مستقل آبپاشی منصوبے کی ضرورت ہے یتنا ہولے پراجکٹ کو ایک سیاسی ڈرامہ اور انتخابات کے قریب عوام کو گمراہ کرنے کی ایک سازش تھی ہمیں یتنا ہولے پرجکٹ کی ضرورت نہیں پرم شیویا رپورٹ کی ضرورت ہے اس رپورٹ میں پانی کی سطح اور کہاں سے لایا جائے گا اور کتنی مقدار ہونی چاہئے اس کی ضرورت نہیں صرف عوام کو گمراہ کرتے ہوئے رُکن پارلیمان ویرپاموئیلی چکبالاپور ضلع کے عوام کو بے قوف بنایا ہے۔


Share: