ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی میں کرناٹک بند کا زبردست اثر ،مختلف کنڑ انواز تنظیموں کی بائک ریلی ،اسکول وکالجس میں چھٹی ،بازار بند ،سڑکوں سے بسیں گاڑیاں غائب 

چنتامنی میں کرناٹک بند کا زبردست اثر ،مختلف کنڑ انواز تنظیموں کی بائک ریلی ،اسکول وکالجس میں چھٹی ،بازار بند ،سڑکوں سے بسیں گاڑیاں غائب 

Fri, 09 Sep 2016 15:16:37    S.O. News Service

چنتامنی:9 /ستمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)کاویری فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے ریاست کے مختلف کنڑا نواز تنظیموں نے آج کرناٹک بند کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کی حمایت کرتے ہوئے چنتامنی میں بھی زبردست بند منایا گیا بند کے سبب چنتامنی حلقے کے تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکول وکالجس کو تعطیل دے دی گئی تھی بندکے وجہ سے یہاں کے بینک سرکاری دفاتربازار وغیرہ بند پڑے ہوئے تھیں شہر کے تمام سڑکیں ویران نظر آرہتے ۔شہر کے چیلور روڈ پر واقع موجود وجیا بینک کھلی رہنے کی اطلاع کنڑانواز تنظیموں کو ملنے پر کنڑا تنظیموں کے کارکنوں بینک میں گھوس کر توڑ پھوڑ مچائی اور بینک پر پھتراؤ بھی کئے اور بینک میں کام کررہے عملہ پر برس پڑے،علی الصباح ہی کرناٹک رکشناویدیکے رعیت سنگھا حضرت ٹیپوسلطان اسوسی ایشن ،ٹیپوسیکولر سینا کنڑا جگاروتی ویدیکے سمیت کئی تنظیموں کے کارکنوں جئے للیتا کا پتلا جلا کر زبردست احتجاج کئے اور شہر کے ٹروالرس بنگلہ سے کئی تنظیموں کے کارکنوں نے بائک ریلی نکالی ۔پھر تمام تنظیموں کے کارکنوں یہاں کے تعلق دفتر کے روبرو پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ریاست کرناٹکا کی صورتحال سے ناواقف ہے اور کورٹ کا فیصلہ ریاست کے عوام کے مفادات کو نظر انداز کرکے سنا یا گیا ہے ۔

احتجاجیوں نے کہا کہ نریمان کو کاویری آبی ٹریبونل کے فیصلے کی پیروں کرنے سے روک جائے کیونکہ نریمان تمل ناڈو کے باشندے ہیں اور ان کی پیروی پر اعتبار کرنا حماقت ہے احتجاجیوں نے حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہادائی آبی منصوبہ ہویا کاویری دونوں کورٹ فیصلوں سے حکومت کا رویہ مشکوک ہوتا جارہا ہے دراصل کورٹ کے فیصلے کے نام پانی مہیا کروانے میں جتنی عجلت دکھائی جارہی ہے اتنی ہی عجلت مقدمے میں دکھانی چاہئے تھی انہوں نے اس ضمن میں ریاست کرناٹکا سے نمائندگی کرنے والے تمام پارلیمانی اراکین کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست کے عوام کے جائز مطالبات کو جس طرح نظر انداز کرتی آرہی ہے اس کی ایک اہم وجہ ریاست کے اراکین پارلیمان ہیں انہیں کے عدم توجہی کے سبب ریاست اپنے جائز حقوق سے محروم ہورہی ہے ۔احتجاجیوں نے وزیر اعظم نریندرمودی سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم ہونے کے ناطے مودی کا اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ وہ تملناڈومہاراشٹرکرناٹکا اور گوا کے وزیر اعلیٰ کے درمیان مداخلت کرکے آبی تقسیم کا تسلی بخش حل نکالنے کوشش کریں تاکہ ریاست کو حاصل ہونے والے پانی میں رکاوٹ نہ ہوسکے ۔احتجاجیوں نے مزید کہا کہ کاویری کے تعلق سے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس کے لئے ریاست کی سابقہ بی جے پی اور حالیہ کانگریس دونوں حکومتیں ذمہ دار ہیں جگڈیش سٹر کی قیادت والی بی جے پی اور موجودہ کانگریس حکومت نے کاویری کے مسئلہ پر مناسب عدالتی کارروائی کرنے کے بجائے اس مسئلے پر لاپرواہی کا معاملہ روارکھا جس کی وجہ سے کرناٹک کے عوام اور کسانوں کو کشمکش اورپریشانیوں میں مبتلا ہونا پڑا ہے برسوں سے چلتے آرہے کاویری آبی تنازعہ میں بی جے پی اور کانگریس دونوں حکومتیں مرکزی حکومت اور عدالت کے سامنے بر وقت اور واضح تفصیلات کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کے نتیجہ میں کرناٹک کے عوام کونقصان پہنچ رہا ہے پانی کے مسئلہ کو لیکر دونوں پارٹیوں نے عوام کو بھڑکا کر اپنے سیاسی مفاد پرستی کا ثبوت دیا ہے۔اس احتجاج میں ٹیپوسیکولر سینا کے تعلقہ صدر محی الدین پاشاہ ٹاون صدر سمیع اللہ وغیرہ موجود رہے۔


Share: