چنتامنی:24 /اکتوبر(محمد اسلم/ایس او نیوز )پچھلے ڈیڑھ مہینے سے وارڈ نمبر14تپتیشور کالونی میں مسلسل پانی کی سربراہی نہ کئے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے برہم مکینوں نے خالی گھڑوں کو لیکر کولار روڈ کو بلاک کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا احتجاجیوں نے کہا کہ تپتیشور کالونی کوپانی منسپل سے سپلائی نہیں کیا جارہا ہے وارڈ کے والومین سے شکایت کئے جانے پروہ جواب دیتے ہیں کہ بورویلوں میں پانی نہیں ہے مکینوں نے سوال کیا کہ اب ہم پانی کہاں سے حاصل کریں وارڈوں میں پانی سربراہی نہ ہونے سے خواتین کو پانی لانے کیلئے کئی کیلومیٹر پیدل جانا پڑتا ہے۔اور ایک ٹینکر پانی 700روپے دیکر خریدنا پڑتا ہے احتجاجیوں نے کہا بورویلوں میں پانی ہونے کے باوجود واٹرمین پانی کی سربراہی نہیں کررہے ہیں جن محلوں میں واٹرمین کو لوگ رشوت دیتے ہیں ان محلوں کو واٹرمین دن رات پانی سپلائی کرتے ہیں۔احتجاجیوں نے مزید کہا کہ وارڈ کے کونسلر بھی وارڈ کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں وارڈ کی خواتین نے وارڈ کے کونسلر سے مسلسل پانی سربراہی کرنے کیلئے شکایت کی ہے لیکن وہ ہماری شکایتوں کو نظر انداز کررہے ہیں ۔
احتجاج کے موقع پر منسپلٹی انجنئیر گوتم نے جائے واردات پرپہنچ کر احتجاجیوں کو منانے کی کوشش کی تو خواتین نے شدید ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ والومینوں کی من مانی چل رہی ہے ہفتے میں ایک مرتبہ بھی پانی سربراہی نہیں کی جارہی ہے گوتم نے والومین روی کو طلب کرتے ہوئے اُسے خوب لتاڑا اور ہدایت دی کہ بورویل میں پانی ہونے کے باجود ان کے محلوں کو پانی سپلائی کیوں نہیں ہورہا ہے۔ ان کے مطابق ہفتہ میں دو مرتبہ پانی سپلائی کیا جانا چاہئے انہوں نے متنبہ کیا کہاگر آئندہ اس طرح کی شکایت موصول ہوئی تو وہ اُس کے خلاف کاروائی کریں گے۔
گوتم نے آخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گرمی کے موسم میں بجلی کی کٹوتی میں بھی اضافہ ہورہا ہے اسلئے وارڈوں کو پانی سربراہی کرنے میں واٹرمینوں کو بھی دشواری ہورہی ہے عنقریب شہر کے تمام واٹرمینوں کو طلب کرکے ان کو ایک منصوبہ بناکر دیا جائیگا کہ کونسے وارڈ کو کس طرح پانی سربراہی کرنا ہے عوام کو بھی چاہئے کہ پانی کو فضول ضائع نہ کریں۔اس احتجاج میں تپتیشور کالونی کی کئی خواتین موجود تھی۔