چنتامنی: 31 /اکتوبر(محمد اسلم/ایس او نیوز) چنتامنی کے وارڈ نمبر15 میں موجود بورویل کا پانی آس پاس کی فصلوں کو سپلائی کئے جانے پر کونسلر محمد شفیق نے واٹر مین روی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا کہ شہر کے اکثر وارڈوں میں پینے کے پانی کے لئے عوام ترس رہے ہیں ایسے میں چوری سے میونسپالٹی بورویل کا پانی فصلوں کو کس کی ہدایت پر سپلائی کیا جارہا ہے ؟
خیال رہے کہ چنتامنی کے مختلف وارڈوں میں پانی کیلئے کافی پریشانیاں پیش آرہی ہیں کیونکہ اس مرتبہ حلقے میں بارش نہ ہونے سے چنتامنی ٹاون کے آس پاس موجود تالابوں کا پانی سوکھ چکا ہے کہا جارہا ہے کہ اگر مزید ایک مہینے میں بارش نہیں ہوئی تو پانی کیلئے مزید پریشانیاں پیش آئیگی ۔ شہر کے تمام وارڈوں میں ہفتہ میں ایک مرتبہ یا پندرہ دنوں میں ایک مرتبہ پانی سپلائی کیا جارہا ہے لیکن مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ چند وارڈوں کے واٹرمین ایسے محلوں کو پانی سپلائی کرتے ہیں جہاں ان کو رشوت دی جاتی ہے عوام کے مطابق شہر کے اکثر گھروں میں آج بھی غیرقانونی واٹرکنکشن ہے مقامی منسپالٹی ان کے خلاف کچھ بھی کارروائی نہیں کررہی ہے ۔
بتایا گیا ہے کہ شہر کے وارڈ نمبر 15 /ٹیپونگر نئی اُردو سرکاری اسکول کے روبرو موجود بورویل سے پانی ضائع ہونے کی خبر راہگیروں کی طرف سےمقامی کونسلروں کو دی گئی تو وارڈ نمبر17 /کے کونسلر محمد شفیق موقع پر پہنچ کر بورویل کا معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ بورویل کا پانی ضائع نہیں ہورہا ہے بلکہ بورویل کا پانی آس پاس موجود فصلوں کو سپلائی کیا جارہا ہے اس بات پربرہم کونسلر محمد شفیق نے واٹرمین روی کو طلب کرکے شدید ناراضگی ظاہر کی۔ کونسلر شفیق نے الزام لگایا کہ واٹرمین منسپالٹی بورویل کے آس پاس موجود فصلوں کے مالکوں سے رشوت لیکر ان کو پانی چوری سے سپلائی کررہا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ واٹرمین کے خلاف کونسل کے اجلاس میں آواز اُٹھائیں گے اور اُس کے تبادلے کا مطالبہ کریں گے۔