چنتامنی:9 /ستمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)چنتامنی تا مرغ ملہ بیچ راستے میں پچھلے کئی دنوں سے اکثر سڑک حادثات پیش آرہے ہیں ان سڑک حادثات میں کئی لوگ اپنی جان گنوا بیٹھیں ہے سڑ ک حادثات کو قابو پانے کے لئے عنقریب حکومت پر میں خود دباؤ ڈالونگا کہ چنتامنی تا مرغ ملہ ڈال روڈ بنایا جائے اسکے لئے میں ہر طرح سے پوری کوشش کرونگا اور اس کے متعلق اسمبلی میں بھی آواز اُٹھاؤنگا تاکہ مرغ ملہ جانے والے زائرین کو کچھ بھی تکلیف نہ ہو یہ بات رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے کہی ۔انہوں نے چنتامنی تعلق مرغ ملہ میں 25لاکھ لاگت سے مویشویوں کے اسپتال تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھنے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرغ ملہ درگاہ کو ہر ہمیشہ ریاست کرناٹکا کے علاوہ دوسرے ریاستوں سے بھی زائرین آیا کرتے ہیں اس درگاہ کو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو بھائی بھی بہت ہی عقیدت مند سے آیا کرتے ہیں ریاستی وقف بورڈ کو چاہئے کہ مرغ ملہ درگاہ کی ترقی کے لئے زیادہ توجہ دیا کرے ۔
انہوں نے کہا یہاں مویشویوں کے اسپتال کے تعمیر کے بعد سنےئر ڈاکٹروں کو رکھنے کی کوشش کی جائیگی وہ ڈاکٹرس صرف مرغ ملہ ہی نہیں بلکہ اطراف جتنے بھی گاؤں ہیں تمام گاؤں کے مویشویوں کی علاج اچھی طرح کرنے کی پوری کوشش کرینگے مویشویو ں کے ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ پہلی فرصت میں حلقے کے تمام دیہاتوں کے جائزہ لیکر مویشویوں کے بیماری کا علاج کرے مویشویوں کے علاج کے لئے حکومت سے دوائیاں بھی دی جارہی ہے ۔کرشناریڈی نے کہا کہ ہمارا ملک بنیادی اعتبار سے کاشتکاروں کا ملک ہے لیکن یہ امر کس قدر افسوس ناک ہے کہ اس ملک میں کسان جو سارے ملک کو غذا فراہم کرتا ہے فاقہ زدگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے کاشتکاروں کا ایک بڑا طبقہ آج سوکھے کی لپیٹ میں آکر قرض اور سود کے شکنجے میں اس قدر جکڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے اپنی زندگی محال لگنے لگی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ قرض اور اپنے کاشتکاری کے تفکرات سے گھرا ہوا ملک کا کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہورہا ہے آج ہم دیکھتے ہیں کہ کسانوں کی خود کشیوں کی وارداتیں ہر روز اخبارات میں آرہی ہے ان حالات میں حکومت کو ان کی بقا اور راحت کے لئے آگے بڑھنا چاہئے تھا لیکن افسوس ہے کہ سرکار عدم توجہی نے حالات کو مزید سنگین بنادیا ہے حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر ان مظلوم کسانوں کی راحت رسانی کے لئے مناسب اور فوری اقدامات کرے۔ اس موقع پر ضلع پنچایت رُکن سنند وینکٹیش ،گرام پنچایتی صدر ناگ منی نائب صدر منی راجو جامع مسجد صدر سمیع اللہ ڈاکٹر رامانندا جے ڈی ایس یوتھ پرسنڈنٹ گوپلی راگھو نرسمہ ریڈی لکشمی نارائن ریڈی تعلق پنچایتی رُکن نرسمہ راجو سمیت کئی لوگ موجود رہے۔