چنتامنی:25 /جنوری(محمد اسلم /ایس او نیوز)پچھلے چند سال قبل بچپن کی شادیوں کا رواج بہت زیادہ تھا لیکن اب یہ رواج کم ہوکر 23.2 فیصد ہوگیا ہے بچپن کی شادیوں کی روک تھام کیلئے عوام کو بھی تعاون کرنا ہوگا بغیر عوام کے تعاون کے بچپن کی شادیوں پر روک لگانا بے حد مشکل ہے یہ بات مہیلا اسوسی ایشن کی تعلقہ صدر ڈاکٹر وجیا لکشمی نے کہی ۔
آج شہر کے مختلف محکمہ جات کے زیر اہتمام ’’ بچپن کی شادیوں کی روک تھام ‘‘ کیلئے نکالی گئی بیداری مہم کا آغاز کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا اثاثہ اور ملک کے مستقبل کے عوام ہیں ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہر حکومت کی ذمہ داری ہے بچپن کی شادی کے رواج کو روکنے کی کوشش پچھلے کئی سالوں سے ہورہی ہے مگر اس میں کامیابی نہیں ملی اس میں ملوث لوگوں کے لئے سخت قانون اور سزا ہو تو اس کی روک تھام ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ ناخواندگی غربت بچپن کی شادیوں کی اہم وجوہات ہیں لڑکی ہو یا لڑکا بالغ ہونے کے بعد ہی شادی ہونی چاہئے یہی صحیح ہے۔
وجیا لکشمی نے کہا کہ آج خواتین پر ظلم پر ظلم چل رہا ہے اس میں کئی خامیاں خواتین کی بھی ہوتی ہیں اور کئی مردوں کی بھی۔ خواتین کی کم اور مردوں کی زیادہ ہوتی ہے اب تعلقہ کے علاوہ ریاست بھر میں خواتین پر ظلم بڑھ گیا ہے اس کومٹانے کیلئے تمام خواتین کو متحد ہوجانا چاہئے تاکہ ظلم میں کمی آئے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین پر ہورہے ظلم کو مٹانے کے لئے ہر فردکا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے آئیں اور خواتین پر ہورہے ظلم کو دور کریں سینکڑوں خواتین ظلم کا شکار ہوکر فوت ہوچکے ہیں کسی کو انصاف ملا تو کسی کوانصاف نہیں ملا۔ آج کے اس خطرناک دور میں لڑکیوں اور خواتین کو زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے مختلف قسم سے خواتین کو ستایا جارہا ہے کہیں مار کر جلا دیا جارہا ہے اور کہیں پھانسی کا پھندا ڈال کر لٹکایا جارہا ہے تو کہیں تنہائی میں زیادتی ہورہی ہے ۔اس ظلم کو اگر مٹانا ہے تو ہر تنظیم اورہر شخص کا فرض بنتا ہے کہ وہ خواتین تنظیموں کا ساتھ دیں اور اس ظلم کو ہمیشہ کیلئے نکال پھینکنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قدرت نے عورت اور مرد کے جس نظام کو تشکیل دیا ہے ۔وہ نظام ایک دوسرے کے بنا ادھورا ہے۔ اس دنیا کے نظام کو چلانے کی ذمہ داری صرف مرد کی نہیں بلکہ عورت کی بھی ہے ۔مرد حاکم بن کر حکمرانی کرے گا اور عورت مرد کی خدمت اور گھر کا نظام چلائے گی ۔اس طرح دنیا کا نظام لاکھوں کروڑوں سالوں سے چلا آرہا ہے لیکن چند مفاد پرست انسان قدرت کے اس بہترین نظام کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔دراصل قدرت نے مرد کوعورت کا محافظ بنایا تھالیکن مردمحافظ بننے کی بجائے حاکم بن بیٹھامر د کی اسی سوچ نے آج خواتین کو سماج سے الگ کر رکھا ہے خواتین پر تشدد اور مظالم کسی ایک مخصوص ملک کا نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک نیزترقی یافتہ ممالک کے لئے بھی سنگین مسئلہ ہیں ان پر قابو پانے کے لئے صرف قانون بنادینا یا ایوانوں میں بل کو منظور ی دے دینا کافی نہیں ہے بلکہ اس قانون کی آگاہی اور اس کا نفاذ لازم ہے،اس موقع پر ناگراج ،وجیا نرملا ،سمیت کئی اسکولوں کے طالبات اور آنگن واڑی کارکنان موجود رہے ۔