چنتامنی:9 /نومبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)تعلقہ کے چلکنرپورا سرکاری اسپتال میں بیشتر دنوں سے تالا پڑا ہوا ہے اس سے برہم مقامی لوگوں نے آج اسپتال کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کیا احتجاجیوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اسپتالوں کی ترقی کیلئے بہت کچھ سہولتیں فراہم کررہی ہے لیکن یہاں کے سرکاری اسپتال بیشتر دنوں سے بند پڑے ہوئے ہیں جس سے چلکنرپورا اور آس پاس موجود یہاتیوں کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی مرتبہ محکمہ صحت عامہ کے افسروں سے بھی اسپتال کھولنے اور مریضوں کا علاج کرنے کیلئے شکایت کی گئی لیکن محکمہ کے افسران جان کر بھی انجان ہوچکے ہیں ۔احتجاجیوں نے کہا کہ پچھلے چھ ماہ قبل اسپتال کو کھولا گیا تھا اور اسپتال میں مریضوں کا علاج وغیرہ بھی کیا جارہا تھا لیکن اچانک اس اسپتال میں ملازمت کررہے ڈاکٹروں کا تبادلہ کردیا گیا ڈاکٹروں کے تبادلہ کردینے کے بعد دوسرے کسی بھی ڈاکٹروں کو یہا ں مقرر نہ کرنے کے سبب اسپتال کو تالا لگاکر چھوڑ دیا گیا ہے ۔احتجاجیوں نے مزید کہا کہ اگر چلکنرپور اور آس پاس دیہاتوں میں کوئی بیمار پڑ گیا تو علاج کیلئے چنتامنی ٹاون ہی جانا پڑتا ہے چنتامنی یہاں سے 35 کیلومیٹر دوری پر ہے جبکہ وقت پر بسوں کی بھی سہولت نہیں رہتی اکثر ایسے بھی واقعات پیش آئے ہیں کہ رات کے وقت اگر کوئی بیمار پڑگیا تو اُس کو اسپتال لے جا تے وقت درمیان میں ہی موت واقع ہوچکی ہے ۔احتجاجیوں نے کہا کہ چلکنرپور گاؤں کے آس پاس موجود قریوں میں اگر کسی کو سردرد یا بخار وغیرہ ہوگئی تو اُس کو 50تا100روپئے خرچ کرکے چنتامنی جانا پڑتا ہے اس کے متعلق وزیر برائے صحت رمیش کمار سے بھی شکایت کی جاچکی ہے اگر جلد ہی یہاں کے سرکاری اسپتال کا تالا نہیں کھولا گیا اور مریضوں کا علاج کرنا شروع نہیں کیا گیا تو تمام قریوں کے عوام ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو احتجاج کرینگے ۔اج کے احتجاج میں کرناٹک دلت سنگھرش سمیتی کے ٹیلر منی سوامی نریش شرنیواس وینکٹیش نوین کمار سبا وغیرہ موجود تھے۔