نئی دہلی،16/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے بیٹے کارتی چدمبرم سمیت آئی این ایکس میڈیا کے سابق سربراہ پیٹر مکھرجی اور اندرانی مکھرجی کے خلاف سی بی آئی نے مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کے تحت مقدمہ درج کر کے دہلی،چنئی، ممبئی اور گروگرام میں چھاپہ ماری کی۔الزام ہے کہ کارتی چدمبرم نے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کر تے اس کمپنی کو فائدہ پہنچایا اور کروڑوں روپے کی رشوت لی۔آج سی بی آئی نے کارتی چدمبرم سمیت آئی این ایکس میڈیا کے سابق سربراہ پیٹر مکھرجی اور اندرانی مکھرجی کے خلاف مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کامعاملہ درج کرکے دہلی، چنئی، ممبئی اور گرگرام میں چھاپہ ماری کی۔الزام ہے کہ کارتی چدبرم نے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ایک پرائیویٹ کمپنی کو تین سو کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایاتھا۔الزام یہ بھی ہے کہ فائدہ پہنچانے کے بدلے میں کارتی سے منسلک کمپنیو ں کو کروڈو روپے دئیے گئے۔سی بی آئی کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ آئی این ایکس میڈیا کمپنی 2006میں قائم کی گئی تھی،اور اس کمپنی کے سربراہ پیٹر مکھرجی اور اندرانی مکھرجی تھے، یہ وہی مکھرجی ہے جو اپنی بیٹی شینا مکھرجی کے قتل کے الزام میں جیل میں ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق، اس کمپنی نے وزارت خزانہ کے ماتحت آنے والے فارین انویسٹمینٹ پروموشن بورڈ سے ماریشس کی تین کمپنیو ں کو اپنی کمپنی کے 46فیصد سے زیادہ شیئر 10 روپے کے فی شیئر دینے کی اجازت مانگی تھی۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی پی بی بورڈ نے کمپنی کو کل 4کروڑ 62لاکھ روپے ایف ڈی آئی کے طور پر لینے کی اجازت دی، اس فیصلہ پر سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کی بھی رضامندی تھی۔الزام ہے کہ آئی این ایکس میڈیا نے 4 کروڑ کی جگہ تین سو پانچ کروڑ روپے کی ایف ڈی آئی لی اور اپنے دس روپے کے شیئر کو 800 روپے سے زیادہ کی شرح پر غیر ملکی کمپنی کو دیا، لیکن کمپنی کی یہ چال کو محکمہ انکم ٹیکس نے پکڑ لیا اور وزارت خزانہ سے جواب مانگا۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مصیبت سے بچنے کے لیے کمپنی نے پی چدمبرم کے بیٹے کارتی چدبرم سے مدد مانگی۔ایف آئی آر کے مطابق کارتی چدمبرم کے مشورہ کی بنیاد پرآئی این ایکس میڈیا نے وزارت خزانہ کو جواب دیا کہ اس نے سب کچھ ٹھیک کیا ہے۔الزام ہے کہ کارتی کے اثرورسوخ میں ایف آئی پی بی بورڈ نے کمپنی کے گھوٹالے کو نظر انداز تو کیا ہی،ساتھ ہی اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے کمپنی سے کہا کہ وہ منظوری کی ایک نئی درخواست دے اور بعد میں کمپنی کو اس کی اجازت بھی مل گئی۔