ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پیر سے بلگاوی میں لیجسلیچر کے سرمائی اجلاس کی تیاریاں مکمل،اہم امور پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے اپوزیشن کمر بستہ

پیر سے بلگاوی میں لیجسلیچر کے سرمائی اجلاس کی تیاریاں مکمل،اہم امور پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے اپوزیشن کمر بستہ

Sat, 19 Nov 2016 11:10:43    S.O. News Service

بنگلورو۔18؍نومبر(ایس او نیوز)ریاستی لیجسلیچر کا سرمائی اجلاس پیر سے بلگاوی کے سورنا سودھا میں دس دنوں کیلئے شروع ہوگا۔اجلاس میں ریاست کی اپوزیشن پارٹیاں مختلف امور پر حکومت کو نشانہ بنانے کی تاک میں ہیں تو دوسری طرف حکومت نے بھی اپنے دفاع کیلئے حکمت عملی تیزی سے وضع کرنے میں پوری توجہ مرکوز کی ہے۔ ریاست میں سنگین خشک سالی، پانی کی قلت ، مویشیوں کیلئے چارہ کی کمی ، بجلی کے بحران اور دیگر امور پر بحث کے ساتھ شمالی کرناٹک کو درپیش مختلف مسائل پر اجلاس میں بحث کی توقع کی جارہی ہے۔ 21نومبر سے شروع ہونے والے اجلاس کیلئے سورنا ودھان سودھا میں تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ریاستی اسمبلی اور کونسل کے سکریٹریٹ اور دفاتر کل ہی ودھان سودھا سے بلگام منتقل ہوچکے ہیں ، ہفتہ سے یہ دفاتر سورنا ودھان سودھا میں کام کرنے لگیں گے۔ دونوں ایوانوں کے افسران آج بلگام کیلئے روانہ ہوگئے۔ یہاں نظم وضبط کی نگرانی کیلئے خصوصی پولیس بندوبست کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی سورنا ودھان سودھا کے روبرو احتجاجی مظاہروں کو دور رکھنے کیلئے افزود تعداد میں پولیس جوانوں کومتعین کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیا، اپوزیشن لیڈران جگدیش شٹر، کمار سوامی اور دیگر کے درمیان اجلاس میں کئی امور پر زور دار ٹکراؤ کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں۔ پچھلے دنوں ریاست کے مختلف مقامات پر آر ایس ایس کارکنوں کے مبینہ قتل اور ریاست میں نظم وضبط کی صورتحال پر ایوان میں نہ صرف بحث ،بلکہ بی جے پی کی طرف سے ہنگامہ آرائی کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔ مانسون کی ناکامی کے سبب ریاست کے 139 تعلقہ جات میں خشک سالی کی سنگین صورتحال پر حکومت ایوان میں بحث کرانا چاہے گی ، اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت کے اقدامات ناکافی ہیں تو دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے خشک سالی سے نمٹنے کیلئے کرناٹک کو امداد کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے عوام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مہادائی ، کلسا بنڈوری اور دیگر امور پر بھی ایوان میں بحث کی توقع ہے۔ 


Share: