بنگلورو،18؍نومبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے پولیس جوانوں اور افسران کے بھتوں میں زبردست اضافہ کا اعلان کیا ہے۔ ان بھتوں میں اضافہ کے علاوہ آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے پولیس جوانوں اور افسران کیلئے کئی نئے بھتوں کے نفاذ کا بھی اعلان کیا۔ یکم دسمبر 2016 سے پولیس والوں کیلئے نئی تنخواہوں کے میزان قائم کردئے جائیں گے۔کافی عرصہ سے پولیس والوں کی طرف سے یہ مانگ ہوتی رہی ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرتے ہوئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔ ریاستی حکومت نے ان میں سے بعض مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے پولیس جوانوں کو دئے جانے والے موجودہ بھتوں کے ساتھ اپنے طور پر مزید نئے بھتوں کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔وزیراعلیٰ سدرامیا نے آج اپنی ہوم آفس کرشنا میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور ، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اوم پرکاش وغیرہ موجود تھے۔اخباری کانفرنس سے مخاطب ہوکر سدرامیا نے کہاکہ پولیس جوانوں کو فی الوقت ماہانہ دئے جانے والے یونیفارم بھتے کو بڑھاکر پانچ سو روپے کردیا گیا ہے۔ پہلی بار حکومت نے پولیس جوانوں کیلئے ٹراول الاونس متعارف کروایا ہے۔ اس کے تحت ماہانہ چھ سو روپے ادا کئے جائیں گے۔ اسی طرح دشوار حالات میں کام کرنے والے جوانوں کیلئے رسک الاونس کے طور پر ماہانہ ایک ہزار روپے دئے جائیں گے۔مجموعی طور پر حکومت کی طرف سے ماہانہ دو ہزار روپیوں کے افزود بھتے دئے جائیں گے۔آج حکومت کی طرف سے معلنہ بتھوں کا فائدہ ریاست بھر کے 90ہزار پولیس جوانوں کو ملے گا۔ سرکاری خزانے پر اس کا بوجھ تقریباً 200 کروڑ روپے ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس موقع پر واضح کیا کہ حکومت نے پولیس جوانوں کی تنخواہوں پر کوئی نظر ثانی نہیں کی ہے۔ مختلف ریاستوں میں رائج تنخواہوں کے نظام کا جائزہ لینے کے بعد اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس راگھویندرا اورادکر نے حکومت کو ستمبر کے دوران جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں تنخواہوں پر نظر ثانی کی سفارش کی گئی ہے، لیکن موجودہ حالات میں نظر ثانی ممکن نہیں۔ آئندہ سال پولیس جوانوں کیلئے مخصوص پے کمیشن قائم کیا جائے گا، اسی لئے حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ کی بجائے محض بھتوں میں اضافہ پر اکتفا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سال بھر بغیر چھٹی کے کام کرنے والے پولیس جوانوں کو بارہ ماہ کی تنخواہ کے علاوہ ایک ماہ کی افزود تنخواہ ادا کی جائے گی۔ پولیس جوانوں کی ترقی کے متعلق بھی حکومت نے نئے ضوابط وضع کئے ہیں۔ موجودہ ضوابط کے تحت کانسٹبل کو اپنی پوری مدت میں صرف ایک پرموشن ملتا ہے، اس کو تبدیل کرتے ہوئے دس سال میں ایک پرموشن دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بطور کانسٹبل ڈیوٹی شروع کرنے والے کسی بھی جوان کو ریٹائر ہونے تک تین مرتبہ ترقی ملے گی اور بطور پولیس سب انسپکٹر وہ ریٹائر ہوسکتاہے۔ پولیس جوانوں کو ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی مقرر کی گئی ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے انہیں کیانٹین سے خوردنی اناج فراہم کرنے کی بجائے نقد کی شکل میں اس کی قیمت ادا کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعلیٰ پولیس افسران کے گھروں میں کام کیلئے تعینات آرڈرلی نظام کو ریاستی حکومت نے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب تک نئے ریکروٹ جوانوں میں سے اکثر کو پولیس افسران کے گھروں پر ان کے گھریلو کام کاج کیلئے تعینات کیا جاتا رہا ہے، وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ آج ہی سے اس نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ جلد ہی اس سلسلے میں احکامات جاری کردئے جائیں گے۔ عرصۂ دراز سے پولیس جوانوں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ آرڈرلی نظام کو ختم کیاجائے ، کیونکہ اس نظام کے تحت پولیس جوانوں کو اعلیٰ پولیس افسران کے گھروں پر غلاموں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت نے بھی اس نظام کو ختم کرنے میں کافی دلچسپی ظاہر کی تھی۔وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتایا کہ فی الوقت اعلیٰ پولیس افسران کے گھروں پر جو جوان بطور آرڈرلی تعینات ہیں، ان کو محکمہ میں متبادل ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ محکمۂ پولیس کیلئے درکار 7815 جوانوں اور 711سب انسپکٹروں کی بھرتی کی اجازت دی جاچکی ہے۔ اس میں سے 6610 جوانوں اور 215 سب انسپکٹروں کی بھرتی کا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ پانچ ہزار پولیس جوانوں کی تربیت جاری ہے۔ محکمہ میں خالی ہورہی اسامیوں کو مرحلہ وار پر کرنے کا منصوبہ ہے۔ 2017-18 تک 4561 کانسٹبلوں اور 333 سب انسپکٹروں کی بھرتی کی جائے گی، جبکہ 2018-19 کے دوران 4045 کانسٹبلوں اور 312سب انسپکٹروں کی بھرتی کے عمل کو پورا کیا جائے گا۔