نئی دہلی ، 25/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں، جہاں تمام سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔ اس موقع پر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ہریانہ کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی پر شدید تنقید کی ہے۔ خاص طور پر انہوں نے ریاست میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے مسئلے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ "ہریانہ میں بی جے پی نے بے روزگاری کی ایسی وبا پھیلائی ہے کہ ہونہار نوجوانوں کی زندگی برباد ہو رہی ہے۔"
پرینکا گاندھی نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔ اپنے پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ریاست میں مجموعی طور پر 4.5 لاکھ سرکاری عہدے ہیں جن میں سے 1.8 لاکھ عہدے خالی پڑے ہیں۔ بی جے پی نے ہریانہ کے نوجوانوں سے مستقبل کی سبھی امیدیں چھین کر ان کے ساتھ شدید ناانصافی کی ہے۔‘‘
کانگریس جنرل سکریٹری ریاست میں کانگریس کی حکومت تشکیل پانے کی صورت میں 2 لاکھ مستقل ملازمت دینے کا وعدہ بھی اپنے پوسٹ میں کرتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’کانگریس کی حکومت بنتے ہی ریاست میں 2 لاکھ پکّی بھرتی کی جائیں گی۔ ساتھ ہی ہجرت اور کنبوں کی بربادی روکنے کے لیے سخت اقدام کیے جائیں گے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’ہمارا عزم ہے کہ ہم نوجوانوں میں پھیلی مایوسی کو دور کر کے ہریانہ کو ترقی کے راستے پر لے جانے کا کام کریں گے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ پرینکا گاندھی کے ساتھ ساتھ کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی ہریانہ میں پھیلی بے روزگاری کو لے کر آج بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’آخر ریاست کے نوجوان ’ڈنکی‘ ہونے پر مجبور کیوں ہیں؟‘‘ ساتھ ہی راہل گاندھی نے ہریانہ میں کانگریس حکومت بنتے ہی ایک ایسا نظام بنانے کا وعدہ کیا ہے جس سے نوجوانوں کو اپنے خواب پورے کرنے کے لیے اپنوں سے دور نہیں ہونا پڑے گا، یعنی ملک سے باہر نہیں جانا پڑے گا۔