ممبئی۲۲؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ پریس ریلیز) مہاراشٹرکے مراٹھواڑہ علاقہ کے پربھنی شہر سے ممنوع تنظیم داعش کے ہم خیال ہونے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت گرفتارمسلم نوجوان رئیس الدین صدیقی کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کے لیئے ایک عرضداشت ناندیڑ کی خصوصی انسداددہشت گرد(اے ٹی ایس) عدالت میں داخل کی گئی جسے سیشن جج نے سماعت کے لیئے قبول کرلیا اور ریاستی حکومت کو ۴؍ جنوری کو اس تعلق سے اپنے موقف کا اظہار کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنی کارروائی ملتوی کردی۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج آنند ایل یاولکر کی عدالت میں ناندیڑ کے مشہور وکیل ایڈوکیٹ اریب الدین نے ملزم رئیس الدین کی ضمانت عرضداشت داخل کی جسے اورنگ آباد کے کریمنل وکیل خضر پٹیل نے تیار کیا ہے اور ریاستی حکومت کا جواب آنے کے بعد وہ ہی ضمانت عرضداشت پر بحث کریں گے ۔
گلزاراعظمی نے کہا کہ یکے بعد دیگر ملزمین کی ضمانت عرضداشت داخل کی جائے نیز ملزمین محمد شاہد خان اور اقبال احمد قدیر احمد کی ضمانت کے تعلق سے بھی تیاری کی جارہی ہے اور مناسب وقت پر اسے بھی ناندیڑ کی خصوصی عدالت میں داخل کردیا جائے گا ۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزم رئیس سمیت دیگر ملزمین پر پر تعزیرات ہند کی دفعات 120(b),471, ، یو اے پی اے کی دفعات 13,16,18,18(b), 20, 38, 39 اور دھماکہ خیز مادہ کی قانون کی دفعات 4,5,6 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہے اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں نیز انہوں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے اور اس تعلق سے اردو میں تحریر حلف نامہ بھی ضبط کرنے کا پولس نے دعوی کیا ہے حالانکہ ملزمین کے اہل خانہ کا یہ کہنا ہیکہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے جھوٹے مقدمہ میں ان کے لڑکوں کو گرفتار کیا ہے کیو نکہ پولس نے ملزمین کے قبضہ سے ایسا کوئی بھی مواد ضبط نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ ممنوع تنظیم داعش کے رابطہ میں تھے اور وہ ہندوستان میں کچھ گڑ بڑ کرنا چاہتے تھے بلکہ شوشل میڈیا اور یوٹیوب کی مبینہ سرگرمیوں کو گرفتاری کی وجہ بتایا گیا ہے ۔