نئی دہلی، 28/ دسمبر(آئی این ایس انڈیا /ایس او نیوز) چلن سے باہر کئے گئے 500 اور 1000روپے کے پرانے نوٹ رکھنے والوں پر اب جرمانہ لگے گا، انہیں جیل کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔مرکزی کابینہ نے آج اس طرح کی تجویز والے آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس آرڈیننس کو منظوری دی گئی،اس میں مقرر ہ تاریخ کے بعد500 اور 1000روپے کے بندکئے گئے پرانے نوٹ رکھنے والوں پر جرمانہ لگانے کے ساتھ ساتھ جیل کی سزا کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ریزرو بینک قانون میں ترمیم والے ایک اور آرڈیننس کو بھی منظوری دی گئی ہے جس میں بند کئے گئے ان نوٹوں کی ذمہ داری سے حکومت اور مرکزی بینک کو آزاد کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازعہ سے بچا جا سکے۔سرکاری ذرائع نے آرڈیننس کو مرکزی کابینہ کی منظوری ملنے کی اطلاع دی ہے، حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سزا کی یہ تجویز کس تاریخ کے بعد لاگو ہو گی۔حکومت نے 500 اور 1000روپے کے بند ہوچکے نوٹوں کو بینکوں میں جمع کرانے کے لیے 50دن کا وقت طے کیا تھا، یہ میعاد 30/دسمبر کو ختم ہو رہی ہے، اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایک منشور کے ساتھ 31/مارچ تک ان نوٹوں کو ریزرو بینک کے مخصوص دفاتر میں جمع کرایا جا سکے گا۔آرڈیننس کی دفعات کے مطابق،10 سے زیادہ بند کئے گئے بینک نوٹ رکھنے پر مالی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور بعض معاملوں میں چار سال تک جیل کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔حکومت نے 8 /نومبر کی آدھی رات سے 500 اور 1000روپے کے پرانے نوٹوں کو بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا، ایسے نوٹوں کو نئے نوٹوں سے تبدیل کرنے یا بینک، پوسٹ آفس کے اکاؤنٹس میں جمع کرانے کو کہا گیاتھا۔حکومت نے حالانکہ نوٹ تبدیل کرنے کی سہولت کو تو کچھ وقت بعد واپس لے لی لیکن پرانے نوٹ بینک اور پوسٹ آفس کے اکاؤنٹس میں جمع کرانے کے لیے جمعہ 30/دسمبر تک کا وقت ہے۔