نئی دہلی، 25؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ سے سنجے لیلا بھنسالی کی متنازعہ فلم ’پدماوت‘کو ریلیز کرنے کی ہری جھنڈی ملنے کے باوجود دارالحکومت دہلی، گروگرام، فرید آباد، نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا سمیت کئی جگہوں پر احتجاج نے تشددکارخ لے لیا۔کرنی سینا کے کارکنوں کی طرف سے احمد آباد، جے پور، متھرا، بھوپال، گوالیار، اندور، اجین، رتلام اور مرینا میں مظاہرہ کیا گیاتوبھوپال میں مظاہرین نے کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی۔کرانی سینا کے سخت احتجاج اورمظاہرے کے درمیان ’پدماوت‘سینماؤں میں ریلیزکی گئی،اگرچہ پرتشدد مظاہروں کے درمیان ملٹی پلیکس ایسوسی ایشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ اس کے رکن تاریخی پس منظر پر بنی اس فلم کی ریلیز راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش اور گوا میں نہیں کریں گے۔اس دوران سوشل میڈیا پر لوگوں کو ٹرول کرنے والے ہندتو وادی تنظیموں کے ہندوتو ٹرولرس کی طرف سے فلم’پدماوت‘کے ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی اور بالی ووڈ کے مشہور ڈائریکٹر انوراگ کشیپ کا فون نمبر ٹوئٹر پر عوامی کر دیا گیا ہے۔ساتھ ہی لوگوں کو ان دونوں ڈائریکٹروں کو کال کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ہندوتو ٹرولرس کی طرف سے ٹویٹ میں لکھا گیا ہے کہ سنجے لیلا بھنسالی کے نمبر ...... .. پر کوئی گالی گلوچ نہ کرے،سمجھ تو گئے ہوں گے، سب اب شیئرکرکے پھیلا دو۔وہیں ایک اور ٹرولس نے لکھا ہے کہ انوراگ کشیپ کے نمبر اور سنجے بھنسالی کے نمبر،کوئی بھی ان سے گالی گلوچ نہ کریں،یہ ٹھیک نہیں ہے،ہمارا ملک بہت اچھا ہے،باقی آپ ہوشیارر ہیں ۔