لاہور 27/دسمبر (ایس او نیوز/ ایجنسی) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے مبارک آباد میں زہریلی شراب پینے سے عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے کم از کم 32 افراد ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شراب پینے سے کم ازکم پچاس افراد بھی شدید بیمار ہوگئے ہیں اور اسپتالوں میں ایڈمٹ ہیں۔
تھانہ سٹی ٹوبہ کے سٹیشن ہاؤس آفیسر محمد ندیم نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ کم ازکم شراب پینے سے بیمارہونے والے افراد کو الائیڈ اسپتال فیصل آباد اور ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ میں داخل کیا گیا ہے ، جن کے معدوں کی صفائی اور علاج کیا جا رہا ہے۔
مرنے والوں میں دو کے علاوہ دیگر کا تعلق عیسائی برادری سے بتایا جاتا ہے۔
واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ سٹی ٹوبہ نے بتایا کہ 25 اور 26 دسمبر کی درمیانی رات عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے یہ افراد کرسمس کے موقع پر جشن منا رہے تھے جس کے دوران اُنھوں نے شراب پیا اور گھرجاکر سو گئے۔ صبح 11 بجے جب یہ افراد نہ اُٹھ سکے اور دیگر کئی کی طبیعت بگڑنا شروع ہوئی تو معاملے کا پتہ چلا اور اِن کو دو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کرسمس کے موقع پر شراب نوشی کرنے کے بعد ایک خاتون زرینہ سمیت 149 افراد کی حالت غیر ہوگئی، جن کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر دوران علاج اب تک 32 افراد ہلاک ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ اسپتال میں ابھی تک ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، کسی بھی مریض کی اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں مریضوں کا اسپتال پہنچارہی ہیں۔ پولس کی جانب سے شراب فروشوں کے خلاف کریک ڈائون شروع کردیا گیا ہے، متعدد کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم پولس نے گرفتار شدگان کے ناموں کو صیغہ راز رکھا ہے۔
محمد ندیم کے مطابق عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو شراب کا بندوبست کرنا تھا۔ جب اُنھیں اپنے علاقے سے شراب نہیں مل پائی تو کہیں اور سے لے آئے تھے۔ ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ساجد اور شریف شراب لے کر آئے تھے اور وہ خود بھی وہی زہریلی شراب پینے کے بعد ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں، تاہم علاقے میں پانچ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جہاں شراب کی خریدوفروخت قانوناً ممنوع ہے۔ لیکن غیر مسلموں اور غیر ملکیوں پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اور یہ لوگ لائسنس یافتہ شراب خانوں سے اجازت کے مطابق شراب حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اکثر ایسی خبریں منظریں عام پر آتی رہتی ہیں کہ غیر قانونی طور پر گھروں میں تیار کی جانے والی شراب پینے سے لوگ موت کا شکار ہونے کے علاوہ بعض دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
رواں سال اکتوبر میں جہلم میں ایسی ہی آلودہ شراب پینے سے سات افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ مارچ میں سندھ کے علاقے ٹنڈو محمد خان میں زہریلی شراب استعمال کرنے والے 20 لوگ موت کا شکار ہوئے تھے۔