ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹیپو جینتی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش ناقابل برداشت: سدرامیا

ٹیپو جینتی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش ناقابل برداشت: سدرامیا

Fri, 11 Nov 2016 15:01:39    S.O. News Service

بنگلورو۔10؍نومبر(ایس او نیوز ؍عبدالحلیم منصور) ٹیپو سلطان جینتی کا اہتمام کانگریس حکومت کے سیکولر ہونے کی علامت ہے۔ ریاست میں کانگریس حکومت پوری پابندی کے ساتھ ٹیپو سلطان جینتی کا اہتمام کرے گی، لیکن اس کا مقصد قطعاً مسلم ووٹ حاصل کرنا نہیں ہے۔ یہ بات آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہی۔ شہر کے ودھان سودھا بینکویٹ ہال میں منعقدہ ٹیپو جینتی کا افتتاح کرنے کے بعد انہوں نے بتایاکہ حکومت کے ذریعہ کئی شخصیات کی جینتی منائی جاتی ہے، موجودہ حکومت نے نارائن گروجی اور ٹیپو جینتی منانے کا فیصلہ لیا ہے۔ جس کا مقصد ان عظیم شخصیات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔عام طور پر عظیم شخصیات سے تعلق رکھنے والے طبقات اور قوموں کے ذریعہ انفرادی طور پر ان کی جینتی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کی حکومت کے قیام کے بعد سے ٹیپو جینتی منانے کیلئے کئی گوشوں سے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے بتایاکہ حضرت ٹیپو سلطان شہید ایک حقیقی محب وطن اور اولین مرد مجاہد ہیں ،جنہوں نے اپنی پندرہ سالہ عمر میں ہی انگریزوں کے خلاف اپنے والد حیدر علی کی قیادت میں پہلی جنگ میں حصہ لیاتھا۔ اگر تیسری جنگ میں فرنچ حکومت اور اپنے وفادار ساتھیوں کا تعاون حاصل ہوتا تو ہندوستان تب ہی آزاد ہوگیا ہوتا۔ ٹیپو سلطان ایسے حکمرانوں میں شامل نہیں ہیں جنہوں نے انگریزوں کے آگے گھٹنے ٹیک دئے تھے۔ سدرامیا نے شیر میسور کے مقبول ترین قول ’’ گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک روزہ زندگی بہتر ہے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی لیڈران پر شدید نکتہ چینی کی اور بتایا کہ آج ٹیپو سلطان کی مخالفت کرنے والے زعفرانی لیڈروں کو یہ بات کیوں یا د نہیں آتی کہ انہوں نے خود چار سال قبل شیر میسور کی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیاتھا۔ یڈیورپا کے ذریعہ دئے گے بیان پر بی جے پی حکومت کے قیام کے 24 گھنٹوں میں ٹیپو جینتی منسوخ کردی جائے گی، انہوں نے بتایاکہ کیا یڈیورپا یہ بھول گئے کہ چار سال قبل جب وہ کے جے پی میں تھے ، تب انہوں نے خود گنبد شاہی پر حاضری دیتے ہوئے حضرت ٹیپو سلطان شہید کی خدمات کا اعتراف کیا تھا، مگر آج اسی زبان سے وہ ٹیپو کوہندواور کنڑا مخالف قرار دے رہے ہیں۔ ایسے دہری ذہنیت والے قائد کو شرم آنی چاہئے۔ سدرامیا نے 2012 میں حکومت کی جانب سے محکمۂ گزیٹیر کے ذریعہ پروفیسر بی شیخ علی کی تحریر کردہ کتاب ’’ٹیپو سلطان ایک مجاہد ‘‘ کے عنوان پر کتاب کے دیباچہ میں تب کے وزیر اعلیٰ جگدیش شٹر نے تحریری طور پر ٹیپو شہید کی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیا تھا ، مگر آج ان سب باتوں کو بھول کر یہی لوگ ٹیپو جینتی کی مخالفت کررہے ہیں۔ سدرامیا نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مقصد کیلئے ٹیپو سلطان کا استعمال کیا جارہاہے۔ اور بی جے پی عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ان کی حکومت خالص سیکولر حکومت ہے ، یہاں پر تشدد یا نفرت پھیلانے والوں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا، کیونکہ یہ ملک کسی مخصوص مذہب کی ملکیت نہیں ہے۔ سدرامیا نے ٹیپو سلطان کو ہندو مخالف قرار دئے جانے والے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر وہ ہندو مخالف تھے تو 156ہندو مندروں کی امداد کیوں کرتے اور مرہٹوں کے حملے میں تباہ شرنگیری مٹھ کی باز آباد کاری کیوں انجام دیتے۔اگر ٹیپو سلطان فرقہ پرست ہوتے تو ان کے محل کے روبرو مندر کی گھنٹی بجانے کی اجازت کیوں دیتے۔ اگر انگریز ہندوستان میں کسی بادشاہ یا شہنشاہ سے خوفزدہ تھے تو وہ صرف اور صرف ٹیپو سلطان تھے۔ اسی طرح اگر وہ ہندو مخالف ہوتے تو ان کی سلطنت کے اہم وزراتی قلمدانوں پر پورنیہ جیسے ہندوؤں کااتقرر کیوں کرتے؟۔ ان سب پر پردہ پوشی کرتے ہوئے فرقہ پرست عناصر تنگ نظری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ہم تمام کی طرح ٹیپو سلطان نے بھی مسلمان ہونے کر پیدا ہونے کیلئے عرضی داخل نہیں کی تھی۔ صرف مسلمان بادشاہ ہونے کے سبب ٹیپو سلطان فرقہ پرستوں کی نظروں میں کھٹک رہے ہیں۔ بی جے پی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ گزشتہ سال ٹیپو جینتی کے موقع پر ان لوگوں نے مخالفت نہیں کی مگر اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی فائدہ حاصل کرنے ٹیپو کا سہارا لیتے ہوئے یہ لوگ نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ وہ واضح طورپر کہنا چاہتے ہیں کہ ٹیپو سلطان فرقہ پرست نہیں تھے بلکہ بی جے پی فرقہ پرست ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہر سال سرکاری سطح پر ٹیپو جینتی کا اہتمام کیا جائے گا اور آئندہ سال مزید عالیشان پیمانے پر ٹیپوجینتی کاانعقاد کیا جائے گا۔

امیر شریعت:اس موقع پر دعائیہ کلمات پیش کرتے ہوئے امیر شریعت کرناٹک مولانا مفتی محمد اشرف علی باقوی نے ٹیپو جینتی کے اہتمام پر حکومت کرناٹک کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بتایاکہ ٹیپو شہید کو یاد کرنا گویا پوری آزادی کو یاد کرنے کے برابر ہے۔ بیرونی طاقتوں کے پھنسدے میں پھنس رہے ملک کو آزاد کرانے کیلئے میدان جنگ میں اپنی جان قربان کردی۔ عموماً بادشاہ وقت سامنے آیا نہیں کرتے مگر ٹیپو سلطان نے میدان جنگ میں جان دے دی۔انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ حضرت ٹیپو سلطان کی یادگار کے طور پر میسور تا بنگلور دوڑ رہی ٹرین کو دہلی تک وسعت دیتے ہوئے اسے ٹیپو سلطان شہید سوپر فاسٹ ایکسپریس کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ ملک میں ہر طرف ٹیپو کے چرچے ہوں۔ 

نڑومامڑی سوامی: نڑومامڑی مٹھ کے ویر بھدرا چنا ملا سوامی جی نے ریاست کے عظیم بادشاہوں میں ٹیپو سلطان کا شمار کرتے ہوئے ان کی جینتی کا محکمۂ کنڑا وکلچر کے ذریعہ اہتمام کیا جانے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے بی جے پی لیڈروں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے بتایاکہ جو لوگ آج ٹیپو جینتی کی مخالفت کررہے ہیں وہ لوگ چار سال قبل ٹیپو کی خدمات کے معترف تھے۔اب ان کے ذریعہ ٹیپو جینتی کی مخالفت کے مقاصد کیا ہوں گے یہ جاننا بے حد ضروری ہے۔انہوں نے بتایاکہ صرف ٹیپو جینتی کے اہتمام سے تمام مسلمانوں کے ووٹ کانگریس کو نہیں جاتے ۔ موجودہ حکومت نے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے سرکاری سطح پر ٹیپو جینتی کے اہتمام کا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ملک بھر میں سب سے بھر میں اراضی اصلاحات اگر کسی نے لائے تو وہ ٹیپو سلطان ہیں۔ انہوں نے کمزور اور مزدور طبقات کو زمینات فراہم کئے ہیں۔ ان کے اس انقلابی اقدام کے سبب جاگیر داروں نے ان کی مخالفت کی۔ ٹیپو سلطان کوایک سیکولر حکمران قرار دیتے ہوئے سوامی جی نے سوال کیا کہ اگر وہ بنیاد پرست تھے تو اپنے ہی مذہب کے بادشاہوں کے خلاف کیوں جنگ کرتے ؟۔انہوں نے ٹیپو سلطان کو اولین مرد مجاہد قرار دیتے ہوئے بتایا کہ تاریخ میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک حکمران نے ملک کی آزادی کیلئے اپنے بچوں کو رہن رکھا ہو۔ فرقہ پرست جماعت کے قیام سے پہلے تک ملک میں بھائی چارہ اور ہم آہنگی کا دور دورہ تھا۔ انہوں نے بتایاکہ تمام بادشاہوں کی طرح غداری پر ٹیپو نے بھی کورگ کے لوگوں کو سلطنت کے قوانین کے تحت سزائیں ضرور دیں، مگر یہ سزائیں مذہبی بنیاد پر نہیں تھیں۔ پہلے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ ٹیپو سلطان نے اپنے دور حکومت میں 2000 مندریں منہدم کی تھیں ، مگر آتے آتے یہ تعداد 8000ہوگئی ہے۔ آئندہ کانگریس کو اقتدار سے محروم رکھنے کیلئے فرقہ پرست جماعت کے ذریعہ ٹیپو سلطان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ریاست میں اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھنے والے 80فیصد سے زائد لوگ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ کو برداشت نہیں کرسکتے۔ جس کیلئے منظم طور پر بی جے پی کو اقتدار پر لانے کی سیاسی سازش کی جارہی ہے، اور اس کیلئے عظیم حکمران ٹیپو سلطان کو بدنام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ صرف ایک ٹیپو جینتی کے اہتمام سے مسلمانوں کے وقار میں کوئی اضافہ ہونے والا نہیں ہے اور اس کا اہتمام نہ کرنے سے مسلمانوں کی کوئی توہین بھی ہونے والی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایاکہ سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق مسلمان پسماندہ طبقات سے کمزور ہیں۔ اور وزیر اعلیٰ سے گذارش کی کہ مسلمانوں کو معاشی ، سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور دیگر شعبوں میں اہم دھارے میں لانے کیلئے سچر کمیٹی سفارشات پر ایوان میں بحث کی جائے اور اس کی رپورٹ صدر جمہوریہ کو روانہ کی جائے۔ اسی طرح مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کیلئے خصوصی پیاکیج کا اعلان کیا جائے۔ سوامی جی نے بتایاکہ ملک میں ایسے حالات رونما ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ جس سے مسلمان احساس عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ تقسیم کے بعد پاکستان سے محبت رکھنے والے پاکستان چلے گئے ہیں۔ اب یہاں جو مسلمان ہیں وہ ہندوستان کے باشندے ہیں۔ ملک کی ترقی میں ان کا بھی برابر کا حصہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ ٹیپو شہید کی خدمات اور تاریخ سے متعلق موجود مواد کا کنڑا ترجمہ کیاجائے اور ان کی عظمت سے متعلق سمینار منعقد کئے جائیں ۔ انہوں نے افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے بتایاکہ موجودہ حالات میں فرقہ پرستی اور نفرت پھیلانے والوں کو حب الوطن سمجھا جانے لگا ہے۔ 

اسپیکر کولیواڈ:ریاستی اسمبلی کے اسپیکر کے بی کولیواڈ نے ٹیپو سلطان کو شیر میسور قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ایسی عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقد ہونے والی تقریب کو ذات پات کی نظروں سے دیکھنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے بتایاکہ عظیم شخصیات کی خدمات کے اعتراف کیلئے جینتی کا اہتمام ضروری ہے اور حکومت سے درخواست کی کہ جینتی کا اہتمام ضرور کیا جائے مگر کسی بھی جینتی کیلئے سرکاری تعطیل نہ دی جائے۔ 

اوما شری: وزیر برائے کنڑا وکلچر بہبود�ئ خواتین واطفال اوما شری نے بتایاکہ امسال محکمۂ کنڑا وکلچر کے ذریعہ ٹیپو جینتی کے اہتمام کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیپو سلطان کی شخصیت کسی مخصوص مذہب تک محدود نہیں تھی۔ ٹیپو جینتی کا اہتمام کرنا حکومت اور سیکولر طاقتوں کیلئے باعث فخر ہے۔ ایسی عظیم شخصیت کی مخالفت کے ذریعہ فرقہ پرست طاقتوں کی پول دھیرے دھیرے کھل رہی ہے۔ ہم ٹیپو سلطان کو کسی مخصوص مذہب کے دائرے سے بالاتر ہوکر دیکھنا چاہئے۔ 

ٹی گرو راج:میسور کے نوجوان صحافی ٹی گرو راج نے اس موقع پر خصوصی لکچر دیتے ہوئے ٹیپو شہید پر فسطائی طاقتوں کے ذریعہ عائد ہورہے الزامات کا حوالہ دینے کے ذریعہ مختلف دلائل پیش کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد ثابت کیا۔ اوربتایا کہ ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان فتح کرنے کا جشن منایاتھا۔ انہوں نے بتایاکہ ڈھائی سو سال قبل ٹیپو سلطان نے اپنی سلطنت میں شراب بندی ، جسم فروشی پر پابندی، جوے پر پابندی ، پانی کے تحفظ کیلئے کنمباڈی ڈیم کی تعمیر ، ہر چال میل پر ایک اسکول ، دس میل میں ایک مسافر خانے کا قیام ، معاشی اصلاحات کے طور پر ریشم کی کاشتکاری کا آغاز اور راکیٹ ٹیکنالوجی کے موجد عظیم بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ٹیپو سلطان کٹر مذہب پرست نہیں تھے۔ جب وہ ملبار گئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں کی خواتین صرف کمر تک لباس پہنتے تھے۔ جس پر ان کیلئے انہوں نے ڈریس کوڈ جاری کیا۔ ایسے شخصیت کے خلاف سازش کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ٹیپو سلطان پرجبراً تبدیل�ئ مذہب کے الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا جاتاہے کہ انہوں نے کورگ میں 90ہزار لوگوں کا قتل اور 40ہزار لوگوں کو تبدیل�ئ مذہب کیلئے مجبور کیا، جبکہ ساحلی علاقوں میں عیسائیوں کو جبراً تبدیل�ئ مذہب کیلئے مجبور کیاتھا۔ اگر فرقہ پرستوں کے الزامات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے 2.6لاکھ لوگوں کو تبدیل�ئ مذہب کیلئے مجبور کیا تھا۔ ایسے فرقہ پرستوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے گرو راج نے بتایاکہ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں کے ذریعہ کی گئی مردم شماری میں سلطنت میسور کی جملہ آبادی 5.5لاکھ بتائی گئی تھی۔ ایسے میں ٹیپو کے دور میں 2.6لاکھ پوری آبادی بھی نہیں ہوسکتی۔ ٹیپو سلطان پر کنڑا مخالف اور فارسی نوازی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ٹیپو سلطان نے 1782میں سلطنت کی باگ ڈور سبنھالی تھی۔ اس سے 200 سال پہلے وڈیر سلاطین نے مغلوں کی غلامی قبول کی تھی۔اور اسی دور میں وڈیر سلطنت کی مہر فارسی میں تیار ہوئی تھی اور آخری تک اسی مہر کا استعمال ہورہا تھا۔ چند شہروں کے ناموں کی تبدیلی پر انہوں نے سوال کیا کہ فرقہ پرست تنظیموں کے ذریعہ اب حیدرآباد کو بھاگیہ وتی نگر اور چند دیگر شہروں کے ناموں کی تبدیلی کیلئے مرکز کو تجویز روانہ کی گئی ہے۔ کیا یہ درست ہے؟۔ کورگ میں ٹیپو سلطان کے مظالم سے متعلق عائد الزامات پر انہوں نے بتایاکہ تمام سلاطین کی طرح غداری کے الزامات ثابت ہونے پر انہوں نے بھی اپنی سلامتی پالیسی کے تحت وہاں کے لوگوں کو سزائیں دی ہیں، مگر ٹیپو کی شہادت کے بعد کورگ پر لنگ راجیندرا نے قبضہ کیا اور جیسے ہی اس نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی مظالم کا آغاز کردیا ۔ایک ظالم بادشاہ کیلئے ہر دن ایک نئی لڑکی چاہئے تھی، اور وہ دودھ پلاتی ماؤں کا دودھ پیا کرتا تھا۔ اس کی مخالفت کرنے والے آٹھ سو نوجوانوں کا قتل کیا تھا۔ صرف اور صرف مسلمان ہونے کے سبب ٹیپو سلطان کے خلاف من گھڑت کہانیا ں گھڑی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ فرقہ پرستوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹیپو سلطان میں اوم کاریشورا مندر تباہ کی گئی تھی، جبکہ ٹیپو کی شہادت کے دس سال بعد اس مندر کا قیام عمل میں آیا۔ ٹیپو کی سلطنت میں کسی پر مذہبی پابندی عائد نہیں تھی اور ہر کوئی اپنے مذہب پرآزادی کے ساتھ عمل کرنے پر آزاد تھا۔ مندروں کی تباہی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اگر وہ ہندومخالف ہوتے تو اپنے محل کے روبرو مندر تعمیر نہ کرتے۔ اور کبھی بھی اس مندر سے گھنٹی بجنے نہیں دیتے۔ شرنگیری مٹھ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ مٹھ ہندؤں کا مقدس مقام قرار دیا جاتا ہے۔ مرہٹوں کے حملے کے بعد تباہ ہوئے مٹھ کی باز آباد کاری ٹیپو سلطان نے انجام دی تھی۔ اور وہاں کے مہا سوامی کو تحفظ فراہم کیاتھا۔آج بھی نوراتری کے موقع پر اس مسلم بادشاہ کے ذریعہ عطیہ کردہ اشیاء کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ حیدرآباد کے نظام اور مدراس کے نواب بھی مسلمان تھے۔ جن کے خلاف ٹیپو نے جنگ کی تھی۔ ٹیپو سلطان نے صرف ہندوؤں کو ہی سزا نہیں دی بلکہ غداری کرنے والے کسی بھی فرد کو نہیں بخشاتھا۔اپنی فوج کے محمد علی نام شخص کو انہوں نے بر سر عام ہاتھی کے ذریعہ کچل دیا تھا۔ ٹیپو کی شہادت کے 200 سال بعد بھی فرقہ پرستوں کے ذریعہ ان کی روح کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں اگر جمہوریت کا کریڈٹ کسی کو ملنا ہے تو وہ حیدر علی اور ٹیپو سلطان ہیں۔ انہوں نے فرقہ پرستوں کو مشورہ دیا کہ وہ تاریکی میں چراغ جلاکر روشنی دینے کے قابل نہ ہوں تو خاموش بیٹھ جائیں اور آگ لگاکر دل جلانے کی کوشش نہ کریں۔ اس باوقار تقریب کی صدارت وزیر برائے شہری ترقیات وحج آر روشن بیگ نے کی۔ اس موقع پر وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج ، وزیر برائے شہری رسد وخوراک یوٹی قادر ریاستی منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیرمین سی ایم ابراہیم ، وزارت کنڑا وکلچر کی پارلیمانی سکریٹری شکنتلا شٹی ، رکن راجیہ سبھا کے رحمن خان ، اقلیتی کمیشن کے چیرمین نصیر احمد ، وزیر اعلیٰ کے پارلیمانی سکریٹری گووند راج، رکن کونسل ایچ ایم ریونا ، لیجسیلیچر کمیٹی برائے اقلیتی بہبود وپسماندہ طبقات کے چیرمین جے آر لوبو ، اراکین اسمبلی کونا ریڈی، اشوک کھینی ، کانگریس لیڈر جی اے باوا ، بیاری اکاڈمی کے چیرمین بی ایم حمید ، اردو اکاڈمی کے چیرمین عزیز اﷲ بیگ، کے ایم ڈی سی چیرمین ایم اے غفور ، سمیت دیگر قائدین موجود تھے۔اس موقع پر اردو اکاڈمی کے ذریعہ طبع شدہ ٹیپو سلطان سے متعلق دو کتابوں ’’سلطان جمہوری ٹیپو شہید‘‘ اور ’’ٹیپو سلطان کے خواب‘‘ کے علاوہ محکمۂ اطلاعات ورابط�ۂ عامہ کے ذریعہ جاری کنڑا کتابچہ کا اجراء ، وزیر اعلیٰ اور دیگر مہمانوں کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ محکمۂ کنڑا وکلچر کے ڈائرکٹر دیانند نے استقبال کیا اور محکمہ کے سکریٹری اوما شنکر نے شکریہ ادا کیا۔ 


Share: