ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹرانسپورٹ ہڑتال دوسرے ہفتے میں داخل آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس کا بھی ہڑتال میں شامل ہونے کا اعلان

ٹرانسپورٹ ہڑتال دوسرے ہفتے میں داخل آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس کا بھی ہڑتال میں شامل ہونے کا اعلان

Fri, 07 Apr 2017 14:56:39    S.O. News Service

بنگلورو،6/اپریل(ایس او نیوز)نجی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنے کے مقصدسے تھرڈ پارٹی انشورنس فیس میں جو اضافہ کیا گیا ہے اس کو فوری منسوخ کرنے سمیت دیگر مطالبات کو لے کر لاری مالکان سے شروع کی گئی غیر معینہ مدت ہڑتال دوسرے ہفتہ میں داخل ہوچکی ہے۔ آج لاری مالکان کی انجمن نے فیس میں کمی کا اعلان کرنے تک ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔ کرناٹک اسٹیٹ لاری اونرس اینڈ ایجنٹس اسوسی ایشن فیڈریشن کے صدر جی آر،شنموگپا نے بتایا کہ لاری ہڑتال کی وجہ سے درپیش مسائل کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیر برائے مالیات ارون جیٹلی نے جمعہ7؍فروری کو سہ پہر4بجے فیڈریشن کے عہدیدارن کے ساتھ اجلاس طلب کیاہے۔ اجلاس میں مرکزی حکومت مالکان کی مانگوں کو پورا کرنے کا اعلان کرے تو ہڑتال واپس لی جائے گی ورنہ ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔ جس کے لئے فیڈریشن کے تمام عہدیداران نے متفقہ فیصلہ کیاہے۔ شہر کے فریڈم پارک میں مختلف مطالبات کو لے کر لاری مالکان اور ایجنٹس نے سڑکوں پر اترکر اپنا احتجاج جاری رکھا۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شنموگپا نے کہا کہ آندھرا پردیش سمیت جنوب کی دیگر ریاستوں میں5اپریل سے ہی پٹرول، ڈیزل اور گیس ڈسٹربیوٹرس اسوسی ایشن ہڑتال میں شامل ہوچکی ہے اور مذکورہ اشیاء کی سربراہی مکمل طورپر روک رکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو یا تین دنوں کے بعد کرناٹک میں بھی پٹرول، ڈیزل، اور گیس کی سربراہی روکنے کا انتباہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لاری مالکان کی ہڑتال سے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو روزانہ7.5ہزار کروڑ روپئے اور لاری مالکان کو ڈھائی ہزار کروڑ کا نقصان پہنچ رہاہے۔ ان تمام باتوں کو سنجیدگی سے لے کر مرکز کو لاری مالکان کے مطالبات پورا کرنے میں دلچسپی دکھانی چاہئے۔مسٹر شنموگپا نے مرکزی حکومت کووارنگ دی کہ اگر اس نے لاری مالکان کے ساتھ سوتیلا رویہ جاری رکھاتو آنے والے دنوں میں روز مرہ کے استعمال میںآنے والے غذائی اجناس کی سربراہی مکمل طورپر بند کردی جائے گی۔ جس کے بعد عوام کو ہونے والی پریشانیوں کے لئے خود مرکزی حکومت ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے لاری مالکان کی مانگوں کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لیکن ریاست کی19 شاہراہوں پر جوٹول فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیاہے اس کو منسوخ کرنے کے متعلق واضح جواب نہیں دیاہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مانگ کی کہ وہ ٹول فیس کوفوری منسوخ کرنے کے احکامات جاری کرے ورنہ ریاستی شاہراہوں پر راستہ روکو احتجاج کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سدارامیا اس معاملہ میں فوری اجلاس طلب کرکے لاری مالکان کی مانگوں کو پورا کرنے میں دلچسپی دکھائیں۔ اخباری کانفرنس میں کے جی ٹی اے کے صدر مدن لال اگروال، بی ٹی ٹی او اے کے صدر رادھا کرشنا، لاری اونرس اینڈ ایجنٹس اسوسی ایشن وفیڈریشن کے مینجر آنند سمیت ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے لاری مالکان بھی موجود تھے۔ لاری ہڑتال کے باوجود چند لاریاں سڑکوں پر اترنے کی وجہ سے غذائی اجناس، دال، پھل، ترکاری، دودھ سمیت دیگر ضروری روز مرہ کی چیزوں کی سربراہی میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ نہ ہونے سے عام افراد اطمینان سے ہیں۔ دوسری جانب کے ایس آر ٹی سی سمیت دیگر دو ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں نے ضروری اشیاء کی سربراہی کے لئے بسوں کی سہولت فراہم کی ہے۔ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کا اعلان کیاہے۔ اور8اپریل سے ملک گیر ہڑتال شروع کرنے والا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے کمشنر بی دیانند نے بتایا کہ انہوں نے اے پی ایم سی اور ترکاری اور پھل ہول سیلرس اسوسی ایشن کے عہدیداران کے ساتھ اجلاس کیا۔ انہوں نے تمام افراد کو ضروری چیزوں کی فراہمی کرانے اور کسی بھی طرح کی پریشانی نہ کرنے کی گزارش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہردن ترکاری اور پھلوں کے تاجران کے ساتھ وہ رابطہ میں ہیں۔جس کی وجہ سے مارکٹوں کو ضروری چیزوں کی سربراہی ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب سے آلور اور بیج کا جو ذخیرہ لاگیاتھا اس کو شہر تک پہنچانے کے لئے لاری کی سہولت مہیا نہ ہونے پر انہوں نے کے ایس آر ٹی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر سے تبادلہ خیال کرکے20برسوں کی سہولت حاصل کی اور ہوسکوٹے سے آلور اور بیج کو شہر لایاگیا۔اسی طرح ہڑتال جاری رہنے تک بسوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس درمیان سی آئی ٹی یو تنظیم کے آٹو رکشاء ڈرائیورس،یونین اور گوڈس ٹرانسپورٹرس اسوسی ایشن نے بھی ہڑتال کے لئے مکمل تعاون کااعلان کیاہے۔کے ایس آر ٹی سی اسٹاف اینڈ ورکرس فیڈریشن نے بھی لاری ہڑتال کے لئے اپنی بھر پور تائید کا فیصلہ کیاہے۔فیڈریشن کے جوائنٹ سکریٹری ایس ناگراج نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے اپنی تائید کا اعلان کیاہے۔


Share: