بنگلورو۔19؍دسمبر(ایس او نیوز) رشوت ستانی اور دیگر الزامات کی پاداش میں سدرامیا کابینہ کے کم از کم تین وزراء کے استعفوں کے متعلق ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی پیشین گوئی کے متعلق ریاستی وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یڈیورپا کے ان بیہودہ بیانات پر توجہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کالے دھن کی جانچ کے سلسلے میں مصروف سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے لوگوں نے انہیں ایسا کچھ نہیں بتایا۔ہوسکتا ہے کہ وہ افسران مرکز میں بر سر اقتدار بی جے پی سے وابستہ یڈیورپا کو اپنی تحقیقات کی جانکاری دیتے ہوں گے۔ مجھے اس بارے میں کچھ پتہ نہیں۔انہوں نے کہاکہ بے بنیاد خبروں پر تبصرہ کرکے وہ اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے۔ کالے دھن کے متعلق جو بھی جانچ چل رہی ہے اس کے بارے میں سی بی آئی یا ای ڈی کے افسران کی طرف سے اب تک کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے اگر کوئی بیان آتا ہے تو اس کا جواب دیا جاسکتا ہے، اس سے پہلے ہونے والی کسی بھی قیاس آرائی پر تبصرہ کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے شہر کی ترقی کیلئے جو بھی فنڈز مہیا کرانے ہیں اس کیلئے بی بی ایم پی افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ تخمینوں کی فہرست تیار کریں،ریاستی کابینہ میں یہ فہرست پیش کی جائے گی اور اس کے مطابق رقم جاری کی جائے گی۔ شہر میں نگر وتھانہ منصوبے کے تحت ترقیاتی کاموں کیلئے حکوت کی طرف سے نگرانی کیلئے اعلیٰ اختیاری کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے پر جنتادل (ایس) کے اعتراض اور بی بی ایم پی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد ختم کردینے کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے جارج نے کہاکہ اس سلسلے میں وہ جنتادل (ایس) لیڈروں سے بات چیت کریں گے۔