نئی دہلی،28/دسمبر (آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) 8 /نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ نوٹ بند ی کے اچانک اعلان کو آج 50پورے دن پورے ہو رہے ہیں۔اس اعلان سے پہلے سمجھاجارہا تھا کہ 500اور 1000کے نوٹ میں 15.4لاکھ کروڑ روپے سسٹم میں موجودہیں۔ آج 50ویں روز ایک اندازہ کے مطابق ان میں سے 14لاکھ کروڑ روپے بینکوں میں واپس جمع ہو چکے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ حکومت کی امید سے بھی زیادہ پیسے بینکوں میں جمع ہوئے ہیں۔دراصل حکومت کو امید تھی کہ بلیک منی جمع خوری کی وجہ سے پرانے تقریبا تین لاکھ کروڑ روپے واپس بینکوں میں واپس نہیں آئیں گے، لیکن اس کے برعکس حکومت کی توقع سے بھی زیادہ پیسے بینکوں میں جمع ہوئے ہیں۔ حالانکہ پہلے یہ مانا جا رہا تھا کہ تقریبا تین لاکھ کروڑ روپے جب جمع نہیں ہوں گے تو آر بی آئی کے تقریبا اتنا پیسہ حکومت کو منافع کے طور پر دے گا، لیکن اب ایسا ہونے کا امکان نظر نہیں آتا،اتنی بڑی رقم واپس بینکوں میں جمع ہونے کاسیدھا مطلب ہے کہ غیر اعلانیہ رقم کو بھی بینک میں جمع کرانے کا راستہ تلاش کرلیا گیا، اب حکومت کو امید ہے کہ بڑی جمع کی وجہ سے ٹیکس کے طور پر حکومت کو زیادہ پیسے ٹیکس ریونیو کے طور پرملیں گے، کیونکہ ابھی 2.5لاکھ روپے کی آمدنی پر فی شخص کو انکم ٹیکس میں چھوٹ ملی ہے۔حالانکہ تصویر کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اب بھی نوٹ بند ی کے اثرات کی وجہ سے اے ٹی ایم میں لمبی لمبی لائنیں دیکھنے کو مل رہی ہیں، حکومت کے دعووں کے برعکس عوام کو کوئی بڑی راحت نہیں ملی ہے۔اب بھی لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کو اس معاملے پر چوطرفہ گھیرارکھا ہے۔حال میں اختتام پذیر مکمل سرمائی اجلاس نوٹ بند ی کی نذر ہو گیا۔گزشتہ 15سالوں میں اس سرمائی اجلاس میں سب سے کم کام کاج ہوا۔