ممبئی، 22نومبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) مرکز کے نوٹ بندی کے اقدام پر حملہ آور ہوتے ہوئے شیوسینا نے آج کہا کہ اس سے حقیقی کالا دھن تو باہر نہیں آیا بلکہ حکومت بھوک، مہنگائی اوربے روزگاری جیسے سلگتے مسائل سے توجہ بھٹکانے میں کامیاب ضرور ہو گئی۔شیوسینا نے ملک میں ”مالی ایمرجنسی“کا تبصرہ کرنے والے این سی پی سربراہ شرد پوار کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں یہ تبصرہ وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں (حال ہی میں انہوں نے پونے میں ایک پروگرام کے دوران ان سے ملے تھے)کرنا چاہیے تھا۔شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا کے اداریے میں کہا گیا کہ نوٹ بندی کے فیصلے کی وجہ سے حکومت لوگوں کی توجہ بھوک، افراط زر، بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے مسائل سے بھٹکانے میں کامیاب رہی ہے۔این ڈی اے کی اتحادی ساتھی نے کہا کہ پیسے تبدیل کرنے کے لئے کوئی بھی بڑی مچھلی قطار میں کھڑی نہیں دیکھی گئی،اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل کالا دھن ابھی تک باہر آیا ہی نہیں اور مودی کے دوست(ان کے فیصلے کے حامی)کو یہ تسلیم کرنا ہی ہوگا۔اس میں کہا گیا ہے کہ دوسروں کے اکاؤنٹس میں پیسہ جمع کرنے والوں کو سات سال کے لئے جیل میں ڈالنے کے بجائے حکومت کو انہیں عمر قید دینی چاہئے۔شیوسینا نے کہا کہ موجودہ صورت حال کے لئے پوار بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں کیونکہ مودی نے عوامی طور پر یہ کہا ہے کہ انہوں نے سیاست کا سبق انہیں سے سیکھا ہے۔گذشتہ 13نومبر کو مودی نے سیاست میں 50سال کی ناٹ آؤٹ اننگز مکمل کرنے کے لئے پوار کی تعریف کی تھی۔