نئی دہلی،23نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا) بڑے نوٹوں کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو دنیا میں سب سے بڑا اچانک کیا گیا استعمال قرار دیتے ہوئے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ نو ٹ بندی کے پیچھے ایک گھوٹالہ ہے جس کی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی(جے پی سی)سے جانچ کرائی جانی چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کو ایوان میں آکر نوٹ بندی کے معاملے پر اپوزیشن کو سننا چاہئے۔پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں نوٹ بندی کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے مظاہرے میں حصہ لینے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ یہ جو وزیر اعظم نے کیا ہے، وہ دنیا کا سب سے بڑا اچانک کیا گیا مالی استعمال ہے،اس کے بارے میں انہوں نے کسی نے نہیں پوچھا۔کہا جا رہا ہے کہ وزیر خزانہ کو بھی اس کی معلومات نہیں تھی۔چیف اقتصادی مشیر کو بھی اس کی معلومات نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ قدم وزیر خزانہ سے بات چیت کر کے نہیں اٹھایا گیا ہے، وزیر اعظم نے اٹھایاہے۔کانگریس نائب صدر نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم ملک کی نمائندگی کرتے ہیں،وہ پارلیمنٹ میں آئیں اور نوٹ بندی کے معاملے پر مکمل بحث کے دوران بیٹھیں،انہیں اپوزیشن کو سننا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو لگتا ہے کہ اس نوٹ بندی کے پیچھے ایک گھوٹالہ ہے۔وزیر اعظم اور بی جے پی صدر نے اپنے لوگوں کو اس کے بارے میں پہلے بتایا،اس لئے جے پی سی سے جانچ کرائی جانی چاہئے۔کانگریس نائب صدر نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس پوپ کنسرٹ سے خطاب کرنے کا وقت ہے،وہ ایسی تقریب سے خطاب کر سکتے ہیں جہاں ناچ گانے کا پروگرام ہوتا ہے لیکن اپوزیشن کے 200ممبران ایک سر میں ان سے نوٹ بندی پر بحث سننے اور جواب دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں پر ان کے پاس پارلیمنٹ میں آنے کا وقت نہیں ہے۔راہل گاندھی نے سوال کیا کہ مودی پارلیمنٹ میں کیوں نہیں بول رہے ہیں۔وزیر اعظم پارلیمنٹ کے اندر آنے سے کیوں ڈرتے ہیں،کچھ نہ کچھ تو وجہ ضرور رہا ہو گا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں آنے سے ڈرتے ہیں،وزیر اعظم بتائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کو فیصلے کی معلومات نہیں تھی لیکن بی جے پی کی تنظیم کے کچھ لوگوں اور بی جے پی کے دوست صنعت کاروں کو اس کی اطلاع تھی۔