ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بندی کی وجہ سے معیشت متاثر،بے روزگار افراد کے نقصان کی تلافی ہو؛ نتیش کمار کا یونیفارم سول کوڈ کے خلاف احتجاج،لاء کمیشن کی تنقید

نوٹ بندی کی وجہ سے معیشت متاثر،بے روزگار افراد کے نقصان کی تلافی ہو؛ نتیش کمار کا یونیفارم سول کوڈ کے خلاف احتجاج،لاء کمیشن کی تنقید

Wed, 25 Jan 2017 02:29:11    S.O. News Service

پٹنہ، 24 جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جنتا دل یونائیٹڈ نے نوٹ بندی کے معاملے پر مرکزی حکومت کواپنی نظریاتی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے لیکن یونیفارم سول کوڈ کے معاملے پر وہ مرکز کی پہل کا ہر قدم پر احتجاج کرے گی۔ یہ اعلان پارٹی کے قومی صدر اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے منگل کو پٹنہ میں کرپوری جینتی کے موقع پر ایک پروگرام میں کیا۔پیر کی شام کو بھی پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ گھنٹوں تبادلہ خیال کرنے کے بعد نتیش نے پھر وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کوئی عام قدم نہیں بلکہ بڑا قدم مانتے ہیں اور ارادے ٹھیک لگتے ہیں۔ اوراب50 دنوں سے زیادہ 70 دن ہونے کو آئے۔ وزیراعظم کو اس اقدام کے بعد جو اچھی باتیں ہوئی ہیں اس کے بارے میں ملک کے لوگوں کو بتانا چاہئے۔ تاہم نتیش نے پہلی بار تسلیم کیاکہ نو ٹ بندی کی وجہ سے معیشت میں کساد بازاری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز کو اس کی وجہ سے جتنے لوگ بے روزگارہوئے ہیں یا جنہیں اقتصادی نقصان جھیلنا پڑا ہے ان کی تلافی کرنی چاہئے۔پی ایم مودی سے قریبی کو لے کر لگائے جا رہے قیاس آرائیوں کو لے کر نتیش کمار نے اپنے حامیوں اور لیڈروں سے صاف کہا کہ لوگ بے وجہ سیاسی قیاس آرائی کرنے لگتے ہیں۔ انہیں جو اچھا لگتا ہے اسے اچھا کہنے میں ہچکتے نہیں، لیکن لوگ اسے سیاسی ملن سے منسلک لگتے ہیں۔ نتیش نے کہاکہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب میں بی جے پی کے ساتھ حکومت چلا رہاتھاتب منموہن سنگھ کی حکومت جی ایس ٹی لائی تھی۔تب میں نے حمایت کی جبکہ بی جے پی حکومت ریاستوں کے وزیراعلیٰ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اسی طرح نتیش نے یاد دلایا کہ صدر کے انتخابات میں انہوں نے پرنب بابو کی حمایت کی تھی۔نتیش نے جہاں ایک اور نوٹ بندی پرحمایت جاری رکھنے کا اعلان کیاوہیں یونیفارم سول کوڈ کیلئے قومی لاء کمیشن کی طرف سے ریاستوں سے رائے مانگے جانے پر اعتراض ظاہرکیا۔ نتیش نے صاف کہا کہ یہ بالکل غلط ہے اور فی الحال اس کیلئے ماحول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سماجی تنظیموں سے بات چیت کرنے کیلئے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ریاستوں کوجس طرح سوالنامہ بھیج کر رائے طلب کی گئی ہے، وہ مناسب نہیں ہے۔ ریاستوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسے ہم کسی امتحان میں بیٹھے ہوں اور وہاں ہاں یانہ میں جواب دیناہے۔ نتیش نے مرکز کو مشورہ دیا کہ ہمارے معاشرے میں جوتنوع ہے اسے ختم کرنے کی کوشش نہ کریں۔پہلے نتیش کمار نے کابینہ سے مرکز کی سوالنامے کو مسترد کر دیا تھا۔نتیش کمار نے اس اجلاس میں کرپوری ٹھاکر کے بہانے بی جے پی کی جم کر تنقید یہ کہتے ہوئے کی کہ جن لوگوں نے کرپوری کے زندہ رہنے پران کی مخالفت کی، اب ان کی جینتی مانا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تھک ہار کر انہوں نے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ ہم لوگوں کی بہت بڑی جیت ہے۔ نتیش کمارنے شراب بندی کے معاملے پر بہار بی جے پی کے رہنماؤں کی تنقید پر کہا کہ اب وہ وزیراعظم سے درخواست کریں گے کہ ان کے رہنماؤں کا من ٹھیک نہیں ہو رہا ہے توتمام بی جے پی حکومت ریاستوں میں شراب بندی لاگوکیجئے۔ نتیش نے شراب بندی کے معاملے پرانسانی زنجیر میں بچوں کی شرکت پربی جے پی رہنماؤں کی طرف سے کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ آر ایس ایس کی شاخ میں لے کر جاتے ہیں تب ان کو خراب نہیں لگتالیکن اگراچھے کاموں کیلئے بچے آگے آئے تب انہیں مخالفت کا مسئلہ لگتا ہے۔


Share: